لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ملانیاٹرمپ کی سفارتی کوششیں رنگ لےآئیں، روس اوریوکرین میں محدودجنگ بندی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / کیو (ویب ڈیسک): امریکی خاتون اول ملانیا ٹرمپ (Melania Trump) کی منفرد سفارتی کوششوں کے نتیجے میں روس اور یوکرین نے جنوبی یوکرین کے زیرِ قبضہ شہر اولیشکی (Oleshky) میں معمر شہریوں کے محفوظ انخلاء اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ایک محدود اور مقامی فائر بندی (Localized Ceasefire) کا معاہدہ کر لیا ہے۔

وائٹ ہاؤس اور خاتون اول کے دفتر سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملانیا ٹرمپ نے اس معاہدے میں “ایکسکلوسو انٹرمیڈیری” (منفرد ثالث) کا کردار ادا کیا۔ اس فائر بندی کا باقاعدہ آغاز 29 اکتوبر سے ہوگا، جس کا مقصد سرحد کے قریب محصور ہو جانے والے سینکڑوں بزرگ شہریوں کو فوری علاج، ادویات، خوراک اور پینے کا صاف پانی فراہم کرنا اور ان کا انخلاء ممکن بنانا ہے۔

اولیشکی شہر زاپوریژیا اور خیرسون خطے کی فرنٹ لائن پر واقع ہے۔ جہاں بارودی سرنگوں، مسلسل ڈرون حملوں اور بجلی و خوراک کی شدید قلت کی وجہ سے حالات ابتر ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ گھاس کھانے پر مجبور تھے۔

کرملین کے ترجمان دمتری پیسکوف اور روسی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ صدر ولادیمیر پوتن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بات چیت کے بعد ملانیا ٹرمپ کے اس اقدام پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب یوکرینی پارلیمنٹیرینز اور انسانی حقوق کے کمشنر دمیترو لوبینیٹس نے بھی اس فائر بندی اور پوپ فرانسس و ملانیا ٹرمپ کے مثبت کردار کا اعتراف کیا ہے۔

ملانیا ٹرمپ نے اس تمام کارروائی کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک غیر جانبدار امریکی میڈیا ہاؤس کو زمینی حقائق کی دستاویزی فلم بنانے کی اجازت دی ہے، جس کے تحت ‘نیوز میکس’ (Newsmax) کے نمائندے 29 اکتوبر سے روسی اور یوکرینی ٹیموں کے ساتھ اولیشکی میں داخل ہوں گے۔