نیویارک(ویب ڈیسک): نیویارک سٹی کے ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے اور محنت کش طبقے کے لیے رہائش کو سستا بنانے کے لیے میئر زہران کوامے ممدانی نے ایک جامع اور انقلابی ہاؤسنگ پلان “Block by Block: The Housing Plan for a New Era” جاری کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگلے دس سالوں میں 2 لاکھ نئے سستے گھر تعمیر کیے جائیں گے جبکہ مزید 2 لاکھ موجودہ گھروں کو سستی رہائش کے طور پر برقرار (Preserve) رکھا جائے گا۔
اس تاریخی منصوبے کو اگلے پانچ سالوں کے دوران 22 بلین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا تعاون حاصل ہوگا۔ میئر ممدانی کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب نیویارک کو بنانے والے محنت کشوں کو ہی شہر سے باہر دھکیلا جا رہا ہے، نیویارک کسی تاخیر یا ادھورے اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ منصوبہ آج اور آنے والے کل کے کرایہ داروں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔

پلان کی اہم خصوصیات اور اصلاحات:
عوامی ہاؤسنگ (NYCHA) میں سرمایہ کاری: نیویارک سٹی کی تاریخ میں پبلک ہاؤسنگ (NYCHA) کے لیے سب سے بڑی مالیاتی امداد کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے عمارتوں کی مرمت اور رہائشیوں کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا۔

اپنا گھر اور کو-آپٹیو اسکیمز: ممدانی انتظامیہ محنت کش طبقے کے لیے مستقل سستے کو-آپس (Co-ops) بنانے کے لیے “آور ہوم” (Our Home) نامی نیا پروگرام شروع کر رہی ہے، جبکہ “اوپن ڈور” پروگرام کا حجم دوجنا کیا جا رہا ہے۔
کرایہ داروں کا تحفظ اور معائنہ: گھروں میں ہیٹنگ اور دیگر شکایات کے حل کے لیے ہاؤسنگ کوڈ انفورسمنٹ کا نظام تبدیل کیا جا رہا ہے، جس کے تحت کرایہ دار خود انسپکشن کا وقت طے کر سکیں گے۔
تعمیراتی کارکنوں کے لیے کم از کم اجرت: ہاؤسنگ پلان میں کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے سٹی فنڈڈ منصوبوں پر تعمیراتی کارکنوں کے لیے 40 ڈالر فی گھنٹہ کم از کم اجرت اور فوائد کا معیار مقرر کیا گیا ہے۔

اس پلان کو نیویارک کے مختلف سینیٹرز، کونسل ممبران، ہاؤسنگ کے شعبے سے وابستہ تنظیموں اور لیبر یونینز کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے اور اسے شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا اور جامع ہاؤسنگ منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔





