واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS NOW) اور پولیٹیکو (Politico) پر وائٹ ہاؤس آمد پر لگائی گئی پابندی کے خلاف امریکہ کے فرسٹ ایمینڈمنٹ (آزادیٴ اظہارِ رائے) کے حامی گروپس اور میڈیا تنظیمیں متحد ہو گئی ہیں۔ متاثرہ میڈیا ہاؤسز کی جانب سے عدالتی حکمِ امتناعی (Injunction) کے لیے پیر کی صبح تک باقاعدہ قانونی درخواستیں دائر کیے جانے کا امکان ہے۔
اگرچہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے ‘زیمل بنام رسک’ (Zemel v. Rusk) کے 1965 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر کے اقدام کا دفاع کیا، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ کیس “ویو پوائنٹ ڈسکریمینیشن” (نظریاتی یا کوریج کی بنیاد پر تفریق) کا ہے۔ امریکی آئین کی رو سے جب حکومت وائٹ ہاؤس جیسے سرکاری مقام کو صحافیوں کے لیے کھولتی ہے، تو وہ کوریج کی نوعیت یا تنقیدی موقف کی بنیاد پر کسی خاص ادارے کو باہر نہیں رکھ سکتی۔
ماضی کے عدالتی فیصلوں کے مطابق صدر یا حکومت کی جانب سے “ناپسندیدہ خبریں” شائع کرنے پر صحافیوں کا داخلہ بند کرنا فرسٹ ایمینڈمنٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ صدر ٹرمپ کے اپنے بیانات کہ “یہ ادارے میرے خلاف مسلسل خبریں لگاتے ہیں” عدالت میں ان کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔
صدر جیکی ہینرک اور سابق صدر ویجیا جیانگ نے واضح کیا کہ صحافیوں کا انتخاب کوریج کے معیار یا پسند و ناپسند پر نہیں ہو سکتا۔ یہ اقدام عوام کے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کو متاثر کرتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ، فاکس نیوز اور دیگر مسابقتی میڈیا ہاؤسز نے سی این این اور پولیٹیکو کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس پابندی کو جمہوری اقدار اور پریس کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
ڈیموکریٹک رہنماؤں نے صدر کے رویے کو آئین سے تصادم قرار دیا، جبکہ فریڈم آف دی پریس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ جلد از جلد عارضی امتناعی حکم (TRO) حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔





