بیجنگ / واشنگٹن: مصنوعی ذہانت (AI) کی بین الاقوامی دوڑ میں امریکہ اور چین کے درمیان مسابقت ایک حساس اور اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں امریکی کمپنیاں جدید ترین اے آئی ماڈلز کی ترقی میں آگے ہیں، وہاں امریکی اینتھروپک (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈائی (Dario Amodei) نے عالمی سطح پر فرنٹیئر اے آئی کی رفتار کو متوازن رکھنے اور اس کے خطرات پر کنٹرول کے لیے چین کے ساتھ تعاون کی تجویز پیش کی ہے، جسے بیجنگ میں محتاط انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔
تجارتی اور ٹیکنالوجی ریسرچ فرم ‘اومڈیا’ (Omdia) کے مطابق چین اے آئی کی ترقی میں کسی بھی قسم کے جبر یا سست روی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ بیجنگ اسے اپنی “بنیادی خودمختاری” کا لازمی حصہ سمجھتا ہے۔
تاہم دوسری جانب چین نے اے آئی سیفٹی اور رسک مینجمنٹ کے حوالے سے اپنے فریم ورک کا تیسرا ورژن جاری کر دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک میں سیکیورٹی خدشات پر کسی حد تک مشترکہ تشویش موجود ہے۔
بیجنگ کے نئے فریم ورک میں سائبر سیکیورٹی، خودمختار ایجنٹس (AI Agents) کے خطرات اور “ریکرسیو سیلف امپروومنٹ” (Recursive Self-Improvement) جیسے پیچیدہ امکانات کو شامل کیا گیا ہے۔
چینی ماہرین کے مطابق بیجنگ کا ریگولیٹری فوکس اب صرف اس بات پر نہیں کہ “اے آئی کیا کہتی ہے” بلکہ اس پر منتقل ہو چکا ہے کہ “اے آئی کیا کر سکتی ہے”۔
روزمرہ زندگی میں اپنانا: چین میں روزمرہ کاموں میں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر ‘A-fu’ نامی ڈیجیٹل ہیلتھ سروس، جو معروف ڈاکٹرز کی طرز پر تیار کردہ بوٹس پر مبنی ہے، 150 ملین (15 کروڑ) سے زائد صارفین تک پہنچ چکی ہے۔
چین کی حکومت اپنے نئے پانچ سالہ منصوبے کے تحت مینوفیکچرنگ اور انڈسٹریل شعبے کو مکمل طور پر اے آئی پر منتقل کرنے کے لیے فنڈنگ اور ریعایتیں فراہم کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی آئندہ ملاقات میں اے آئی سیکیورٹی کا موضوع اہم ایجنڈے کے طور پر پیش کیے جانے کا امکان ہے، تاہم ماہرین کے مطابق کسی بڑے معاہدے کی توقع محدود ہے۔





