واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکا کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ، بشمول بڑی تعداد میں موجود پاکستانی اسٹوڈنٹس کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا کی شرائط کو مزید سخت کرنے کا حتمی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ نئی مجوزہ پالیسی کے تحت اب غیر ملکی طلبہ کو وفاقی حکومت کی خصوصی اجازت کے بغیر 4 سال سے زائد عرصے تک امریکا میں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
نئے قوانین کے تحت طلبہ پر اپنے اسٹڈی پروگرامز تبدیل کرنے اور ایک کالج یا یونیورسٹی سے دوسری جگہ منتقل (ٹرانسفر) ہونے پر بھی ماضی کے مقابلے میں سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ویزا قوانین کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کو روکنا اور باقاعدہ جانچ پڑتال (Vetting) کے ذریعے قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ نئی پالیسی ستمبر سے نافذ العمل ہوگی۔
واضح رہے کہ اب تک ‘F-1’ ویزا اور ‘J-1’ ایکسچینج ویزا پر آنے والے غیر ملکی طلبہ ‘ڈیوریشن آف اسٹیٹس’ (Duration of Status) کے قانون کے تحت امریکا میں رہ سکتے تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل ہونے تک جتنے سال چاہیں امریکا میں قیام کر سکتے تھے اور اعلیٰ تعلیمی ادارے خود ان کے ویزا کی مدت میں توسیع کر سکتے تھے۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری مارک وین مولن (Markwayne Mullin) کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں سے ان طلبہ کا راستہ روکا جائے گا جو بار بار نئے کورسز میں داخلہ لے کر غیر معینہ مدت تک امریکا میں قیام پذیر رہتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی غیر ملکی طلبہ کی تعداد کم کرنے اور امیگریشن کنٹرول کو سخت کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نئی پالیسی سے سب سے زیادہ گریجویٹ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کے طلبہ متاثر ہوں گے، کیونکہ ان ڈگریوں کو مکمل ہونے میں عام طور پر 4 سال سے زیادہ کا وقت لگتا ہے۔ اس کے علاوہ ریسرچ میں تاخیر، فنڈنگ کے مسائل اور ذاتی وجوہات بھی تعلیمی مدت کو طویل کر دیتی ہیں۔
نئے قوانین کے تحت تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکا چھوڑنے کی مدت (Grace Period) کو بھی 60 دنوں سے گھٹا کر صرف 30 دن کر دیا گیا ہے، جس کے دوران طلبہ کو یا تو امریکا چھوڑنا ہوگا یا پھر کسی دوسرے ویزا کیٹیگری میں تبدیل ہونا ہوگا۔
بین الاقوامی ماہرینِ تعلیم کی تنظیم ‘نیفسا’ (NAFSA) نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پالیسی سے ایک ایسے نظام میں غیر یقینی صورتحال اور بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا ہوں گی جو طویل عرصے سے کامیابی سے کام کر رہا تھا۔ امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کے لیے ان نئے قوانین کا مطلب کم وقت، ٹرانسفر کے محدود مواقع اور مقررہ حد کے اندر ڈگری مکمل کرنے کا شدید دباؤ ہوگا۔





