واشنگٹن (ویب ڈیسک):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے گزشتہ ماہ اپنے دستخط سے منظور ہونے والے سخت ترین قانون کے تحت روس پر عائد کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں اور 100 فیصد تک کے ٹیرف (Tariffs) کے نفاذ سے چند روز قبل ہی انہیں معطل کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر (Executive Order) جاری کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اس حکم نامے میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان پابندیوں اور ڈیوٹیوں کو وقتی طور پر معطل (Waiver) کرنا “امریکہ کے قومی مفاد” میں ہے۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) قریب ہیں اور انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل جنگ کی وجہ سے تیل اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ یہ قانون مرحوم سینیٹر لِنڈسے گراہم (Lindsey Graham) کی کوششوں سے منظور ہوا تھا، جس کا مقصد یوکرین جنگ کی وجہ سے روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانا اور روسی تیل و گیس خریدنے والے ممالک پر بھاری ڈیوٹیاں عائد کرنا تھا۔
اس قانون کے تحت روسی خام تیل خریدنے والے پانچ بڑے ممالک (جن میں چین اور بھارت شامل ہیں) کی مصنوعات پر 100% تک ٹیرف عائد ہونا تھا۔ بیجنگ نے امریکہ کی اس ‘لانگ آرم جورسڈکشن’ پر شدید احتجاج کیا تھا جبکہ بھارت نے واضح انتباہ دیا تھا کہ اس سے پاک و ہند اور پاک-امریکہ جیسے دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ڈیموکریٹس اور سینیٹرز کی شدید تنقید: ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس ڈان بائر (Don Beyer) نے ٹرمپ کے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے پوتن کے سامنے “امریکی ہتھیار ڈالنے” سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ یوکرینی اتحادیوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ دوسری جانب پوتن کے سرمایہ کاری ایلچی کریل دمتریو (Kirill Dmitriev) نے اسے ایک “تاریخی پیشرفت” قرار دیا جس سے امریکی و روسی معاشی بائیکاٹ ٹل گیا ہے۔





