نئی دہلی (ویب ڈیسک): بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے 12 سالہ دورِ اقتدار کی سب سے بڑی سیاسی اور عوامی تحریکوں میں سے ایک اس وقت شدت اختیار کر گئی ہے جب ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) کے بانی اور یوتھ لیڈر ابھیجیت دیپکے (Abhijeet Dipke) کو نئی دہلی کی عدالت نے مشروط پر امن مچلکے (Peace Bond) پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
دیپکے کو نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا تھا.
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)، طلبہ تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار (Gyanesh Kumar) کے استعفے اور ‘اسپیشل انٹینسو ریویژن’ (SIR) یعنی ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کو فوری روکنے کے لیے دارالحکومت سمیت ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے شروع کر رکھے ہیں۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس ریویژن کے ذریعے 13 کروڑ سے زائد ووٹرز کا نام رائے دہی کی فہرستوں سے خارج کر دیا گیا ہے تاکہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کو الیکشن میں فائدہ پہنچایا جا سکے۔
دیپکے کے ساتھ حراست میں لی گئی معروف طلبہ رہنما نیہا بورا (Neha Bora) کو بھی ہفتے کے روز رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “بھارت کے عوام پر رحم کریں، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا فوری احتساب کیا جائے اور SIR پر عملدرآمد روکا جائے تاکہ عام شہریوں کے ووٹنگ کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی ہو سکے”۔
ابھیجیت دیپکے نے رواں برس کے آغاز میں تعلیمی اصلاحات پر ہفتوں طویل دھرنے سے شہرت حاصل کی تھی جس کے بعد بھارت کے مرکزی وزیرِ تعلیم کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس نئی ‘کاکروچ تحریک’ نے اب مودی حکومت کے لیے بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اپنے بیان میں کسی بھی سیاسی جانب داری کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلطی سے حذف کیے گئے ووٹرز اپنے نام دوبارہ درج کروا سکتے ہیں۔ بی جے پی انتظامیہ نے اپوزیشن اور طلبہ رہنماؤں پر الزام لگایا ہے کہ وہ جمہوری عمل کو متنازع بنانے کے لیے بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔





