لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اینتھروپک(Anthropic)نےامریکی کانگریس کو اےآئی ریگولیشن کانیامسودہ قانون پیش کردیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): کلاؤڈ (Claude) جیسے معروف اے آئی اسسٹنٹ کی تخلیق کار کمپنی اینتھروپک (Anthropic) نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے امریکی قانون سازوں کے درمیان ایک نیا مسودہ قانون (Draft Bill) گردش میں لایا ہے، جس کا مقصد انتہائی طاقتور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈلز سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے وفاقی قوانین کی عدم موجودگی کو پورا کرنا ہے۔

پولیٹیکو (Politico) کے مطابق، تیار کردہ مجوزہ مسودے کے تحت اگر کسی اے آئی ماڈل کے ذریعے 50 سے زائد افراد کی موت، شدید زخمی ہونے کا خدشہ یا 1 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہونے کا یقینی خطرہ ہو تو امریکی وفاقی حکومت کسی جج کی پیشگی منظوری کے بعد اس ماڈل کے ریلیز یا استعمال کو فوری طور پر بلاک کر سکتی ہے۔

کمپنی کے ترجمان کے مطابق یہ تجویز فرنٹئیر ڈیولپرز (Frontier Developers) پر یہ لازمی قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے سب سے زیادہ طاقتور ماڈلز کے ٹیسٹ کریں، نتائج کو عوامی سطح پر شفاف رکھیں اور آزادانہ جانچ پڑتال کا حصہ بنائیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اب تک اے آئی انڈسٹری کے لیے رضاکارانہ وعدوں اور ایگزیکٹو آرڈرز پر انحصار کیا ہے۔ ٹرمپ نے تکنیکی رفتار کو سست کرنے کے مطالبات کو “منفی طاقتیں” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی کانگریس نومبر کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے اور اب تک کوئی وفاقی قانون پاس نہیں کر سکی ہے۔

خودمختار ‘اے آئی ایجنٹس’ (AI Agents) کے ڈویلپرز کے کنٹرول سے باہر نکلنے کے حالیہ واقعات کے بعد سیکیورٹی خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اینتھروپک کے سی ای او داریو اموڈئی (Dario Amodei) نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی کی رفتار سست نہ کی گئی تو یہ ایجنٹس آئندہ 6 سے 12 مہینوں میں “پورا انٹرنیٹ” اپنے کنٹرول میں لے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ فروری میں ٹرمپ انتظامیہ نے اینتھروپک پر پینٹاگون میں پابندی عائد کی تھی اور جون میں تین ہفتوں کے لیے اس کے ایڈوانسڈ ماڈلز کو معطل کروایا تھا۔