لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

Trump Orders Review as Scientists from Top Labs Die or Disappear

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکہ میں جوہری پروگرامز اور حساس سرکاری اداروں سے وابستہ 10 نامور سائنسدانوں اور ماہرین کی پراسرار حالات میں ہلاکتوں اور گمشدگیوں نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان واقعات نے حساس اداروں کی سیکیورٹی اور ان کے پیچھے چھپے ممکنہ محرکات پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اگلے 10 دنوں (ڈیڑھ ہفتے) میں ان کیسز پر تفصیلی رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔ انہوں نے محتاط انداز میں یہ بھی کہا کہ ان تمام ماہرین کا سرکاری اداروں سے تعلق ہونا محض ایک اتفاق بھی ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران پیش آنے والے ان واقعات میں لاس الاموس نیشنل لیبارٹری، ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (JPL)، اور ایم آئی ٹی (MIT) جیسے اداروں کے ماہرین شامل ہیں۔

اسٹیون گارسیا: ایٹمی ہتھیاروں کے حساس ادارے کے محافظ، جو ہینڈ گن سمیت لاپتہ ہوئے۔

فرینک مائیوالڈ اور مائیکل ڈیوڈ ہکس: ناسا کے محققین، جن کی موت کی وجوہات پوشیدہ رکھی گئیں۔

کارل گرلمیر: فلکیاتی طبیعیات دان، جنہیں گھر کے سامنے گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

نونو لوریرو: ایم آئی ٹی کے جوہری طبیعیات دان، جنہیں ان کے گھر میں قتل کیا گیا۔

میلیسا کیسیاس اور انتھونی شاویز: لاس الاموس لیبارٹری کے ملازمین جو اچانک لاپتہ ہو گئے۔

ولیم نیل میک کیلینڈ: ریٹائرڈ ایئر فورس جنرل، جو نیو میکسیکو سے لاپتہ ہوئے۔

جیسن تھامس: میڈیسن کمپنی کے محقق جن کی لاش حال ہی میں ایک جھیل سے برآمد ہوئی۔

ان واقعات کی کڑیاں جوڑنے کے لیے وفاقی ایجنسیاں متحرک ہو گئی ہیں، کیونکہ لاپتہ ہونے والے اکثر افراد کو آخری بار اپنے موبائل فون اور بٹوے کے بغیر پیدل جاتے ہوئے دیکھا گیا، جو کہ انتہائی غیر معمولی ہے۔