وینڈالیا، اوہائیو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست اوہائیو کے شہر وینڈالیا (Vandalia) میں ایک عظیم الشان انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈیٹا سنٹرز (Data Centers) کا پرزور دفاع کیا ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور جدید کمپیوٹر انفراسٹرکچر کی تعمیر روکی، تو وہ چین سے عالمی مقابلے میں پیچھے رہ جائے گا۔
اوہائیو میں سینیٹ کا انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلہ جاری ہے جہاں ڈیٹا سنٹرز کی تعمیر سیاسی طور پر ایک بڑا تنازع اور انتخابی موضوع بن چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ریلی میں عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ان منصوبوں سے مقامی کمیونٹیز کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔
صدر ٹرمپ نے کہا، “اوہائیو کے لیے ان منصوبوں میں بہت پیسہ موجود ہے۔ آپ انہیں بند نہیں کر سکتے، ورنہ یہ سب چین چلے جائیں گے۔” انہوں نے اے آئی کے اس انفراسٹرکچر کو “سپر انٹیلی جنس” کا نام دیا۔
ڈیٹا سنٹرز کے شدید بجلی اور پانی کے استعمال سے مقامی شہریوں کے یوٹیلیٹی بلز میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے عوام میں غصہ پایا جاتا ہے۔
نائب صدر وینس کی خالی کردہ نشست پر موجود ریپبلکن سینیٹر جان ہسٹڈ کو اس مسئلے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جنہوں نے ان ڈیٹا سنٹرز کے لیے قوانین متعارف کرانے کی کوشش کی لیکن ڈیموکریٹس نے اسے مسترد کر دیا۔
سابق ڈیموکریٹک سینیٹر شیروڈ براؤن نے ہسٹڈ پر الزام لگایا کہ انہوں نے بگ ٹیک (Big Tech) کمپنیوں کو اربوں ڈالر کی ٹیکس چھوٹ دی اور اب اس کا بوجھ اوہائیو کے عام شہریوں پر ڈال رہے ہیں۔





