واشنگٹن: امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ (Scott Bessent) کی جانب سے امریکی حکومت کے لیے قرض گیری کی لاگت (Bond Yields) کم کرنے کی حالیہ کوششوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ ارب پتی مشہور سرمایہ کار اسٹینلے ڈرکن ملر (Stanley Druckenmiller) نے اپنے سابق ساتھی اور شاگرد اسکاٹ بیسنٹ کو خبردار کیا ہے کہ بانڈز کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر کنٹرول کرنے کا اقدام خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈرکن ملر نے ‘وال اسٹریٹ جرنل’ میں لکھا کہ حکومتوں کو بانڈ مارکیٹ میں مداخلیت کے بجائے بجٹ خسارے میں کمی لانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ طویل المدتی بانڈ کی شرحِ سود کو آزادانہ طور پر طے ہونے دینا چاہیے۔
بیسنٹ نے محکمہ خزانہ کی بانڈ بائے بیک (Buyback) کی حد 2 ارب ڈالر سے بڑھا کر 4 ارب ڈالر کر دی تھی، جسے مارکیٹ نے “قیمتوں کی من مانی کنٹرولنگ” قرار دے کر مسترد کر دیا۔
امریکہ کا کل قومی قرضہ 40 ٹریلین (کھرب) ڈالر کی سطح تک پہنچ چکا ہے جبکہ سالانہ بجٹ خسارہ 2 ٹریلین ڈالر رہنے کا امکان ہے۔
ناقدین نے نشاندہی کی ہے کہ 1992 میں بینک آف انگلینڈ کا دیوالیہ نکالنے والے جارج سوروس کے ساتھ کام کرنے کے باوجود، بیسنٹ اب وہی غلطی کر رہے ہیں اور کرنسی و بانڈ مارکیٹ کو مصنوعی انداز میں کنٹرول کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔





