مونگومو(ویب ڈیسک): پاپائے روم، پوپ لیو چودھویں نے وسطی افریقی ملک استوائی گنی (Equatorial Guinea) کے اپنے دورے کے دوران سماجی انصاف، انسانی حقوق کی بحالی اور طبقاتی فرق کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
بدھ کے روز شہر مونگومو میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ مراعات یافتہ اور محروم طبقات کے درمیان خلیج کو ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
پوپ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، جبکہ صدر کے آبائی شہر مونگومو میں پرتعیش عمارتیں اور عالیشان گولف کورسز موجود ہیں۔
ان پوپ لیو XIV باٹا (Bata) شہر کی ایک جیل کا دورہ بھی کریں گے۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے استوائی گنی کے جیل خانوں میں تشدد اور غیر انسانی سلوک کی بارہا مذمت کی ہے۔
مہاجرین کی ملک بدری کا معاملہ: انسانی حقوق کی تنظیموں نے پوپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ اور افریقی ممالک کے درمیان ہونے والے ان متنازعہ معاہدوں کے خلاف آواز اٹھائیں، جس کے تحت امریکہ سے نکالے گئے مہاجرین کو ان کے اصل ملک کے بجائے استوائی گنی جیسے ممالک میں بھیجا جا رہا ہے۔
صدر تھیوڈورو اوبیانگ، جو 1979 سے برسرِ اقتدار ہیں، نے پوپ کا استقبال کیا۔ پوپ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ حکومت کو ذاتی مفادات کے بجائے “عوامی فلاح” کے لیے کام کرنا چاہیے تاکہ ہر شہری کی عزتِ نفس محفوظ رہ سکے۔





