ٹورنٹو / نیویارک: پاکستانی فلمی دنیا کی معروف اور متنازعہ اداکارہ میرا (سیدہ ارتضیٰ رباب) کو کینیڈین امیگریشن حکام نے نیاگرا بارڈر پر روک کر کینیڈا میں داخلے سے باضابطہ طور پر انکار کر دیا ہے، جس کے بعد انہیں واپس امریکہ بھیج دیا گیا ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے میرا نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اداکارہ نیویارک سے ایک شو میں شرکت کے لیے کینیڈا جا رہی تھیں (جہاں انہوں نے اس سے قبل کیلگری میں اپنی فلم ‘سائیکو’ کی ترویج اور اسٹیج پرفارمنس دی تھی)۔ بارڈر پر امیگریشن حکام نے ان سے کئی گھنٹے پوچھ گچھ کی جس کے بعد انہیں امریکہ واپس لوٹنے کا حکم دے دیا گیا۔ میرا کا کہنا ہے کہ “مجھے تاحال معلوم نہیں کہ مجھے کینیڈا سے کیوں ڈیپورٹ کیا گیا، شاید کسی نے میرے خلاف کوئی شرمناک یا غلط شکایت درج کروائی ہو”۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ میرا کو بیرون ملک سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل برطانوی امیگریشن حکام نے انہیں برطانیہ میں داخلے سے روکتے ہوئے 10 سال کی پابندی عائد کی تھی۔ ان کی والدہ شفقت زہرا بخاری کا دعویٰ تھا کہ یہ انگریزی میں سوالات نہ سمجھنے کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔
میرا کے پاس امریکہ کا گرین کارڈ موجود ہے اور وہ ذاتی اور پیشہ ورانہ مصروفیت کی غرض سے اکثر امریکہ میں قیام کرتی ہیں۔
اگرچہ برطانیہ کا 10 سالہ بین ختم ہو چکا تھا، تاہم بعد میں ٹریول ایجنٹ کی جانب سے مبینہ طور پر غلط معلومات فراہم کیے جانے پر برطانوی حکام نے ان کی نئی ویزا درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔ جولائی 2025 میں انہوں نے برطانوی حکومت سے اپیل بھی کی تھی کہ انہیں کینسر میں مبتلا بہن کی تیمارداری کے لیے لندن جانے کی اجازت دی جائے۔





