لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

تارکینِ وطن کےحقوق کاتحفظ:میئرزوہران ممدانی کاوفاقی حکومت کےنئےپبلک چارج ضابطےکے خلاف مقدمہ دائرکرنےکااعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: نیویارک سٹی کے میئر زوہران کوامے ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ نیویارک سٹی نے شکاگو، سان فرانسسکو، سیاٹل، سانتا کلارا کاؤنٹی اور کنگ کاؤنٹی سمیت دیگر مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کے نئے ‘پبلک چارج’ (Public Charge) ضابطے کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

یہ مقدمہ نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جہاں نئے ضابطے کو نفاذ سے قبل روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

نیا ضابطہ 18 ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہونا مقرر ہے۔ اس ضابطے کے تحت بعض تارکین وطن کے گرین کارڈ یا ویزا کی درخواستوں کے دوران ان کے سرکاری سہولیات و فوائد کے استعمال کو مدنظر رکھا جائے گا، جس سے امیگریشن افسران کو درخواستیں رد کرنے کا وسیع صوابدیدی اختیار مل جائے گا۔

میئر زوہران ممدانی نےکہاہےکہ “اس سخت اور متنازع پالیسی سے تارکین وطن خاندانوں میں خوف اور غیر یقینی پیدا ہونے کا شدید خدشہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے خاندان صحت، خوراک اور دیگر ضروری بنیادی سہولیات حاصل کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ نیویارک سٹی اپنے تارکینِ وطن کی حفاظت کے لیے ہر قانونی راستہ اختیار کرے گا۔”

اسٹیون بینکس (کارپوریشن کونسل) نےکہا نیویارک سٹی نے 2019 میں بھی پبلک چارج کے ایک سابق وفاقی ضابطے کو چیلنج کیا تھا۔ اس نئے مقدمے میں عدالت سے اس پالیسی پر مستقل پابندی عائد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے بھی اس پالیسی کے خلاف ایک الگ مقدمہ دائر کیا ہے جس میں 21 دیگر ریاستیں اور واشنگٹن ڈی سی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیا ضابطہ وفاقی حکومت کے قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔

میئر ممدانی نے نیویارک کے ان تمام تارکینِ وطن کو ہدایت کی ہے جو اسنیپ (SNAP)، میڈی کیڈ (Medicaid)، وک (WIC) یا ٹی اے این ایف (TANF) جیسی سہولیات حاصل کر رہے ہیں، کہ وہ محض خوف کی وجہ سے اپنے فوائد ختم نہ کریں اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ماہرین سے قانونی مشورہ لیں۔

نیویارک سٹی کے میئرز آفس آف امیگرنٹ افیئرز نے شہریوں کی مفت قانونی رہنمائی کے لیے ہاٹ لائن نمبر 0365-354-800-1 بھی جاری کر دیا ہے۔