ممبئی: آنجہانی بھارتی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی سابق منیجر دیشا سالیان کی موت کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
دیشا سالیان کے والد ستیش سالیان نے دو اہم مہاراشٹرین سیاسی رہنماؤں شیوسینا (UBT) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (SP) کے سینئر رہنما و سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ—کو 500 کروڑ بھارتی روپے کے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔
نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دیشا کے اہل خانہ کی جانب سے انصاف کے حصول کے لیے کی جانے والی قانونی جدوجہد کو ‘سیاسی محرکات’ سے جوڑنے کی کوشش کی اور ان کے کردار پر سوالات اٹھائے۔ ستیش سالیان نے نوٹس کے ذریعے دونوں سیاست دانوں سے تحریری، غیر مشروط اور بلا کسی تحفظ کے عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
28 سالہ دیشا سالیان 8 جون 2020 کو ممبئی کے مالاڈ علاقے میں واقع ایک بلند عمارت کی 14 ویں منزل سے گر کر پراسرار طور پر ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس واقعے کے محض 6 دن بعد 14 جون 2020 کو سشانت سنگھ راجپوت اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے تھے۔
دیشا کے والد نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے اور نئے سرے سے تحقیقات کی استدعا کی تھی، جس میں آدتیہ ٹھاکرے، ڈینو موریا اور سورج پنچولی پر الزامات کی تفتیش کی درخواست کی گئی تھی۔
واقعے کے تقریباً چھ سال بعد اب مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) اس کیس کی باقاعدہ تحقیقات کر رہا ہے۔ تاہم، آدتیہ ٹھاکرے نے ایف آئی آر میں نام سامنے آنے پر دیشا سالیان سے کسی بھی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کی ہے۔





