لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

نیویارک میں بنجمن نتن یاہواورمیئرزوہران ممدانی کےدرمیان شدیدزبانی جنگ،اقوام متحدہ کے اجلاس میں جواب دینےکااعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی پر حماس کی حمایت اور یہودی برادری کے خلاف تشدد بھڑکانے کے شدید الزامات عائد کیے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تلخی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نتن یاہو کی نیویارک آمد سے قبل سامنے آئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایک ویڈیو بیان میں ممدانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: “آپ کو حماس جیسے دہشت گردوں کی حمایت پر شرم آنی چاہیے جنہوں نے ہمارے لوگوں کا قتلِ عام کیا۔ میں اقوام متحدہ آ رہا ہوں، جہاں میں اپنی افواج کی بہادری اور آپ کی حقیقت کے بارے میں دنیا کو سچ بتاؤں گا۔” نتن یاہو جمعرات کو اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔

یہ شدید ردعمل نیویارک کے 34 سالہ میئر زوہران ممدانی کے اس انٹرویو کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے جاری کردہ وارنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے نتن یاہو کو “جنگی مجرم” اور “فلسطینیوں کی نسل کشی کا معمار” قرار دیا تھا اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ دہرایا تھا۔ اگرچہ ممدانی نے اعتراف کیا کہ قانونی طور پر شہر کے میئر کے پاس کسی عالمی رہنما کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے احتساب کے لیے اس وارنٹ کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق، بنجمن نتن یاہو کا دورۂ امریکہ مختصر ترین ہوگا اور اس بار ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے اندر اور باہر نتن یاہو کی آمد کے موقع پر شدید احتجاجی مظاہروں کی توقع کی جا رہی ہے۔