لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس کا جنرل اسمبلی سےخطاب:عالمی نظام میں فوری اصلاحات اورچاربڑےامتحانات کاانتباہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے تنازعات، عدم مساوات، موسمیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ نے عالمی نظام کو شدید دباؤ اور خطرات میں ڈال دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ نئی ریاستیں معاشی، سیاسی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں طاقت حاصل کر رہی ہیں، جبکہ بڑی کمپنیوں اور افراد کے ہاتھوں میں بھی غیر معمولی اختیار منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو انسانوں سے مشینوں کی جانب طاقت کی منتقلی کی بڑی مثال قرار دیا۔

سیکریٹری جنرل نے نشاندہی کی کہ موجودہ عالمی ادارے اب بھی ایک گزرے ہوئے دور کی طاقت اور مفادات کی عکاسی کرتے ہیں، اسی لیے عالمی نظام میں فوری اور بنیادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے جنگ، عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے مستقبل کے لیے چار بڑے امتحانات قرار دیا۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کے احکامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری دو ریاستی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے یوکرین پر روسی حملے کو اقوام متحدہ کے منشور کی واضح خلاف ورزی قرار دیا اور سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی مستقل نمائندگی نہ ہونے کو سنگین ناانصافی قرار دیا۔