نیویارک: نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے خطرات اور عالمی سلامتی پر اس کے اثرات پر ایک اہم اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، امریکی اداروں کے ساتھ ساتھ چین کا مشہور AI اسٹارٹ اپ ‘ڈیپ سیک’ (DeepSeek) بھی سلامتی کونسل کو بریفنگ دے گا۔
15 رکنی سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ماہرین نے انتہائی طاقتور AI سسٹمز کی پیشرفت میں ہم آہنگ سست روی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ یہ سسٹمز انسانوں کے کنٹرول سے باہر نہ نکلیں۔ اجلاس میں اوپن اے آئی (OpenAI) کے سی ای او سیم آلٹمین اور اینتھروپک (Anthropic) کے سینئر نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ چینی اے آئی کمپنیوں جیسے ڈیپ سیک اور مون شاٹ (Moonshot) کو بھی بیانات دینے کی دعوت دی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی AI ٹیکنالوجی کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف ہے کہ موجودہ حفاظتی تدابیر کافی ہیں اور ترقی میں رکاوٹ سے چین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب، چینی سرکاری میڈیا نے AI کی پیشرفت کو روکنے کے مطالبات کو امریکہ کی تکنیکی اجارہ داری قائم رکھنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
اس سے قبل 2023 میں بھی سلامتی کونسل نے AI کے خطرات پر بات کی تھی جس میں چین نے اسے “بے لگام گھوڑا” نہ بننے دینے اور امریکہ نے اسے سنسرشپ یا جبر کے لیے استعمال نہ کرنے پر زور دیا تھا۔ اجلاس سے قبل امریکی اور چینی حکام کے درمیان AI کی حفاظت پر مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔





