نیویارک: برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو واحد حل قرار دیا ہے اور سلامتی کونسل میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
برازیلی صدر نے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ اس وقت اپنی تاریخ کے انتہائی نازک اور بحرانی دور سے گزر رہی ہے۔ سلامتی کونسل کی غیر فعالیت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کے فقدان نے عالمی ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا بھر میں مسلح تنازعات اور جغرافیائی کشیدگی میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے جو کسی بڑی عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر لولا نے اسرائیلی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی عوام کو شدید انسانی تباہی کا سامنا ہے، جبکہ انہوں نے حماس کے حملوں کو بھی نااہل قرار دیتے ہوئے دو ریاستی حل پر زور دیا۔
ایران جنگ اور خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز—جو عالمی تجارت کا اہم ترین ذریعہ ہونا چاہیے تھا—اب جنگ کا میدان بن چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایندھن، کھاد اور خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عام لوگ اس کا اثر بھگت رہے ہیں۔
یوکرین جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میدانِ جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوگا اور انہوں نے چین کے ساتھ قائم کردہ ‘فرینڈز آف پیس’ گروپ کے ذریعے مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لاطینی امریکہ میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے وینزویلا کی خودمختاری اور کیوبا پر عائد معاشی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔





