تہران (ویب ڈیسک) – مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد، ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو تمام بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے دو ہفتوں کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سے منظور شدہ ایک اہم بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے خطے میں جاری تنازع کو ختم کرانے کے لیے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، ایران نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل اور ان کے پیش کردہ 15 نکاتی منصوبے کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی درخواست قبول کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے 10 نکاتی تجاویز پر مبنی عمومی فریم ورک پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ:اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جاتے ہیں، تو ایرانی مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔
ایرانی فوج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی سہولت دو ہفتوں کے لیے فراہم کی جائے گی۔یہ رسائی مخصوص تکنیکی شرائط کے تابع ہوگی۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے کلیدی راستہ ہے اور اس کے کھلنے سے عالمی منڈیوں میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس اہم ثالثی کو عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔





