جنیوا(ویب ڈیسک): آج دنیا بھر میں عالمی یومِ موسمیات (World Meteorological Day) منایا جا رہا ہے۔ یہ دن 23 مارچ 1950 کو عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کے قیام کی یاد میں ہر سال منایا جاتا ہے، جس کا مقصد انسانی زندگیوں کے تحفظ اور معیشت کی بہتری میں موسمیاتی خدمات کے کلیدی کردار کو اجاگر کرنا ہے۔
ہم اپنے موبائل فون کی سکرین پر چند سیکنڈز میں موسم کا حال جان لیتے ہیں، لیکن اس ایک کلک کے پیچھے لاکھوں مشاہدات (Observations) اور ہزاروں طاقتور کمپیوٹر پروسیسرز کا ایک عالمی نیٹ ورک کام کر رہا ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایم او کے تعاون سے زمین، سمندر اور فضا میں پھیلے ہوئے سیٹلائٹس، موسمی غبارے (Weather Balloons) اور سمندری بوائے (Buoys) چوبیس گھنٹے ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔
موسمیاتی مشاہدات کا یہ نظام صرف روزمرہ کے معمولات کے لیے ہی نہیں بلکہ اربوں ڈالرز کے معاشی فیصلوں کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قبل از وقت وارننگ کا یہ نظام لاکھوں انسانی جانوں کو قدرتی آفات سے بچانے میں ‘مرکزی اعصابی نظام’ (Central Nervous System) کا کردار ادا کرتا ہے۔
اس سال کا عالمی یومِ موسمیات ڈبلیو ایم او کمیونٹی کی ان انتھک کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جو زمین کے مشاہدے کے ذریعے آج کی نسلوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں اور کل کے لیے موسمیاتی لچک (Resilience) پیدا کر رہی ہیں۔ ہر سال اس دن کے لیے ایک خاص تھیم کا انتخاب کیا جاتا ہے جو پانی، زمین یا آب و ہوا سے متعلق درپیش جدید چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔





