واشنگٹن (ویب ڈیسک) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی سخت ترین پالیسی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کو ہتھیار فراہم کرنے والے کسی بھی ملک پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جس میں کسی قسم کی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ امریکہ ایران میں “پروڈکٹو ریژیم چینج” (مثبت تبدیلی) کے بعد تہران کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم مستقبل کے کسی بھی انتظام میں یورینیم کی افزودگی کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی ٹو (B-2) بمبار طیاروں کے حملوں کے بعد زمین دوز جوہری مواد کو ہٹانے کے لیے ایران کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ ٹیرف میں کمی اور پابندیوں میں ریلیف کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کے بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، جو کہ ایک بڑے معاہدے کی جانب پیش رفت کی علامت ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی ونس نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے دھوکہ دہی یا جنگ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے ایران پر فیصلہ کن فوجی برتری حاصل کر لی ہے اور تہران کا میزائل پروگرام “عملی طور پر تباہ” ہو چکا ہے۔
فرانس، برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے تنازع کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ ادھر ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات سے قبل آبنائے ہرمز کو محدود اور کنٹرول شدہ انداز میں کھولا جا سکتا ہے، تاہم تمام بحری جہازوں کو ایرانی فوج کے ساتھ کوآرڈینیشن کرنا ہوگی۔





