ہانگ زو ,چین(ویب ڈیسک): چینی کمپنی ڈیپ سیک نے مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔
کمپنی نے اپنا نیا ماڈل DeepSeek-V4 لانچ کر دیا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ امریکی کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس نئے ماڈل میں 10 لاکھ الفاظ کو بیک وقت سمجھنے کی صلاحیت (Long Context) موجود ہے، جو اسے پیچیدہ تحقیق اور بڑے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے بہترین بناتا ہے۔
ماہرین کے مطابق V4 کی ریلیز انڈسٹری کے لیے ایک اہم موڑ ہے کیونکہ اس نے اے آئی کے استعمال میں آنے والے بھاری اخراجات اور سست رفتاری کے مسائل کو حل کر دیا ہے۔
یہ ماڈل دو ورژن میں پیش کیا گیا ہے؛ DeepSeek-V4-Pro (1.6 ٹریلین پیرامیٹرز کے ساتھ) اور DeepSeek-V4-Flash (284 بلین پیرامیٹرز کے ساتھ)۔ فلیش ورژن خاص طور پر کم خرچ اور زیادہ موثر کام کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وائٹ ہاؤس نے چینی اداروں پر امریکی اے آئی ٹیکنالوجی چوری کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مشیروں کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیاں امریکی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
تاہم، ڈیپ سیک کا ماڈل ‘اوپن سورس’ ہے، یعنی اس کا کوڈ عوامی سطح پر دستیاب ہے، جو اسے اوپن اے آئی (OpenAI) جیسے امریکی حریفوں سے ممتاز کرتا ہے۔





