لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی عدالت میں ایلون مسک کی AI کمپنی xAI اور چیٹ باٹ Grok کے خلاف سنسنی خیز مقدمہ دائر 

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

کیلیفورنیا: بچپن میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی ایک خاتون (جس کا نام مقدمے میں ‘جین ڈو’ رکھا گیا ہے) نے ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت (AI) بنانے والی کمپنی xAI کے خلاف امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک بڑا کلاس ایکشن مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

درخواست گزار کا الزام ہے کہ xAI کے AI چیٹ باٹ Grok نے ان کی ماضی کی غیر قانونی تصاویر اور ڈیٹا سیٹ کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کے جنسی استحصال (CSAM) کی نئی اور جعلی تصاویر تیار کیں اور انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ (سابقہ ٹویٹر) پر پھیلایا۔

ماضی میں Grok پر بننے والے مقدمات میں الزام تھا کہ وہ بچوں کی عام اور کپڑوں والی تصاویر سے غیر اخلاقی مواد بناتا ہے۔ تاہم، اس تازہ ترین مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی کے AI نے پہلے سے موجود غیر قانونی مواد (Pre-existing CSAM) کو بطور ڈیٹا استعمال کر کے نئی تصاویر بنائیں۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ‘کینیڈین سینٹر فار چائلڈ پروٹیکشن’ نے ڈیجیٹل ہیشیز (Digital Fingerprints) کا استعمال کرتے ہوئے X پر موجود ان تصاویر کی نشاندہی کی ہے جن کا تعلق مدعی خاتون سے ملتا ہے۔

متاثرہ خاتون کے وکیل کا کہنا ہے کہ خاتون کے ساتھ بچپن میں ہونے والے مظالم کی تصاویر پچھلے 20 سالوں سے انٹرنیٹ پر موجود تھیں اور اب AI کا استعمال کر کے ان کے ذریعے مزید نیا غیر قانونی مواد تیار کیا جا رہا ہے جو متاثرہ افراد کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث ہے۔

ایلون مسک کی کمپنی xAI یا اسپیس ایکس (SpaceX) کی جانب سے اس قانونی کارروائی پر فی الحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل مسک نے اس بات کی تردید کی تھی کہ وہ Grok کے ذریعے ایسی تصاویر بننے سے واقف تھے، تاہم کمپنی نے رواں سال اپنے ہی کچھ صارفیں کے خلاف کیسز دائر کیے تھے جن پر Grok کا غلط استعمال کرنے کا الزام تھا۔