لاہور (ویب ڈیسک): دنیا بھر میں آج “ورلڈ ہیریٹیج ڈے” یعنی “ورثے کا عالمی دن” منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ثقافتی تنوع کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور تاریخی مقامات و روایات کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔

اس دن کی تجویز سب سے پہلے 18 اپریل 1982 کو تیونس میں ایک کانفرنس کے دوران پیش کی گئی تھی

جس کی منظوری 1983 میں یونیسکو (UNESCO) کے 22 ویں جنرل اجلاس میں دی گئی۔ تب سے ہر سال 18 اپریل کو یہ دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔

اس سال کے لیے عالمی ادارے ‘ایکوموس’ (ICOMOS) نے “آفات اور تنازعات کے تناظر میں زندہ ورثے کے لیے ہنگامی ردعمل” کا تھیم منتخب کیا ہے۔ اس کا مقصد جنگوں اور قدرتی آفات کے دوران تاریخی مقامات اور روایات کو تباہی سے بچانا ہے۔

یونیسکو کے مطابق ورثہ صرف پرانی عمارتوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی تین بڑی اقسام ہیں:اس میں قدیم عمارتیں (جیسے تاج محل) اور غیر مادی روایات (جیسے دستکاری اور تہوار) شامل ہیں۔

اس میں وہ قدرتی مناظر شامل ہیں جن کی سائنسی یا جمالیاتی اہمیت ہو، جیسے ہمالیہ کا ایکو سسٹم یا سندربن کے جنگلات۔
ایسے مقامات جو ثقافتی اور قدرتی دونوں لحاظ سے اہم ہوں، جیسے سکم کا کھانگ چینڈ زونگا نیشنل پارک۔





