ہیوسٹن(ویب ڈیسک): چاند کے گرد 10 روزہ تاریخی مشن مکمل کرنے کے بعد ناسا کے چار خلا باز ہفتے کے روز ہیوسٹن کے جانسن اسپیس سینٹر پہنچ گئے، جہاں ان کا استقبال ہیرو کی طرح کیا گیا۔ بحر الکاہل میں کامیاب لینڈنگ (Splashdown) کے بعد یہ خلا باز پہلی بار اپنے خاندانوں سے ملے، جس نے ایک جذباتی سماں پیدا کر دیا۔
ناساکا انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کے اپنے طویل مدتی ہدف کی جانب ایک بڑا قدم
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے اس مشن کو “انسانی تاریخ کی سب سے بڑی مہم” قرار دیا۔ اس مشن میں ناسا کے ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین اسپیس ایجنسی کے جیریمی ہینسن شامل تھے۔ ان خلا بازوں نے چاند کے قریب سے گزرتے ہوئے خلا کی گہرائیوں میں اتنا دور سفر کیا جہاں پہلے کوئی انسان نہیں پہنچا تھا۔
آرٹیمس مشن (Artemis II) : ، خلا بازوں کا ‘ٹرانس لونر انجکشن’ نامی اہم ترین مرحلہ مکمل
خلا بازوں کے تاثراتخلا بازوں کے تاثرات
مشن کمانڈر ریڈ وائز مین نے اپنے تاثرات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ زمین سے 2 لاکھ میل دور ہونا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا، “جب آپ وہاں ہوتے ہیں تو صرف اپنے پیاروں اور زمین پر واپس آنے کی خواہش ہوتی ہے۔ زمین پر ہونا ایک بہت خاص احساس ہے۔”
، ناسا کا آرٹیمس II مشن کامیابی کے ساتھ زمین پر واپس پہنچ گیا
خلا باز کرسٹینا کوچ نے بتایا کہ خلا سے زمین کو ایک چھوٹے سے نقطے کے طور پر دیکھنا ان کے لیے سب سے بڑا انکشاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن نے انہیں سکھایا کہ پوری زمین ایک “عملہ” (Crew) کی طرح ہے جسے مل کر رہنا چاہیے۔ وکٹر گلوور اور جیریمی ہینسن نے بھی اس سفر کو ایک “خوشی کی ٹرین” (Joy Train) قرار دیا اور اپنی کامیابیوں کو پوری انسانیت کے نام کیا۔
مستقبل کے مشن: آرٹیمس III
اس مشن کی کامیابی نے 2027 میں متوقع ‘آرٹیمس III’ کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے، جس کے تحت انسان ایک بار پھر چاند کی سطح پر قدم رکھے گا۔ ناسا حکام کے مطابق جلد ہی اگلے مشن کے عملے کا اعلان کیا جائے گا اور چاند پر ایک مستقل بیس بنانے کی تیاریاں شروع کی جائیں گی۔
جانسن اسپیس سینٹر کی ڈائریکٹر وینیسا وائچ نے کہا کہ اس مشن نے نئی نسل کے سائنسدانوں اور انجینئرز کے لیے حوصلہ افزائی کی ایک نئی شمع روشن کر دی ہے۔





