ہیوسٹن: ناسا کے آرٹیمس II (Artemis II) مشن نے ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے
خلائی جہاز ‘اورین’ (Orion) نے کامیابی کے ساتھ اپنے انجن فائر کر کے زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی جانب سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ 1972 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انسانوں پر مشتمل کوئی مشن گہرے خلا (Deep Space) میں اتنی دور تک جا رہا ہے۔
مشن کے آغاز کے ایک دن بعد، خلا بازوں نے ‘ٹرانس لونر انجکشن’ نامی اہم ترین مرحلہ مکمل کیا۔ اس عمل کے دوران انجن کو کئی منٹ تک چلایا گیا جس نے اورین کو زمین کی کشش سے نکال کر چاند کی سمت دھکیل دیا۔
کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن نے مشن کنٹرول کو پیغام دیا کہ “انسانیت نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے، اور آپ کی مستقبل کے لیے امیدیں ہی ہمیں چاند کے اس سفر پر لے جا رہی ہیں۔”
اس چار رکنی ٹیم میں ناسا کے ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ اگرچہ یہ مشن چاند کی سطح پر نہیں اترے گا، لیکن یہ چاند کے گرد چکر لگا کر واپس زمین پر آئے گا۔
اس کا مقصد ان تمام سسٹمز کی جانچ کرنا ہے جو مستقبل میں انسانوں کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنے اور بالآخر مریخ (Mars) تک لے جانے کے لیے ضروری ہیں۔
اورین خلائی جہاز اب اگلے چند دن چاند کی سمت سفر کرے گا۔ جیسے ہی یہ چاند کے قریب پہنچے گا، یہ زمین کی کشش سے نکل کر چاند کی کششِ ثقل (Lunar Sphere of Influence) میں داخل ہو جائے گا۔ مشن کی واپسی بحر الکاہل (Pacific Ocean) میں ہوگی۔
