لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

UN Security Council Deadlock Over Strait of Hormuz Raises Global Concerns

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے بحرین کی قیادت میں پیش کی گئی قرارداد ناکام ہو گئی۔ چین اور روس نے اپنے Veto Power کا استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد کو مسترد کر دیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

15 رکنی سلامتی کونسل میں ہونے والی اس اہم رائے شماری میں11 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ چین اور روس نے مستقل ارکان کی حیثیت سے ویٹو کر دیا۔

پاکستان اور کولمبیا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزایانی نے کونسل کو بتایا کہ مستقل ارکان کے ویٹو کی وجہ سے یہ مسودہ منظور نہیں ہو سکا۔

یہ ووٹنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل ہوئی جس میں انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی اہمیت کی حامل اس آبی گزرگاہ کو فوری طور پر کھولے، ورنہ اسے فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں شدید ردِعمل دیا جائے گا۔

ابتدائی طور پر خلیجی ممالک کی حمایت یافتہ اس قرارداد میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے Chapter Seven کا حوالہ دیتے ہوئے “تمام ضروری ذرائع” (بشمول فوجی طاقت) استعمال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم، فرانس، چین اور روس کے تحفظات کے بعد اس زبان کو تبدیل کر دیا گیا اور حتمی متن میں طاقت کے استعمال کے بجائے رکن ممالک کو دفاعی تعاون اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے جہازوں کے تحفظ کی ترغیب دی گئی تھی۔

آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتی ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد سے تہران نے اس اہم راستے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

اس رکاوٹ کی وجہ سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ایران صرف اپنے دوست ممالک بشمول چین، روس، بھارت اور پاکستان کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔