اسلام آباد(ویب ڈیسک): پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے قومی کمیشن (NCRC) نے یونیسف، یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور ’چائلڈ فرنٹیرز‘ کے تعاون سے ملک میں کم عمری کی شادیوں کے اسباب اور ان کے حل پر مبنی ایک جامع تحقیقی رپورٹ اور مستقبل کا ’پالیسی روڈ میپ‘ جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ اس خصوصی تقریب میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں، کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی (اسلامی نظریاتی کونسل)، سول سوسائٹی کے نمائندوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، جن میں درج ذیل عوامل شامل ہیں:
مذہبی و سماجی پہلو: معاشرتی روایات اور غلط فہمیوں کا خاتمہ۔
غربت اور معاشی دباؤ جو بچوں کی جلد شادی کا باعث بنتے ہیں۔
قوانین میں موجود سقم اور ان پر عملدرآمد کے چیلنجز۔
تقریب کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کم عمری کی شادی نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بچوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیتی ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ اس سماجی ناسور کو ختم کرنے کے لیے تمام اداروں بشمول مذہبی قیادت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔
اس نئے روڈ میپ کا مقصد وفاقی اور صوبائی سطح پر قانون سازی کو بہتر بنانا اور آگاہی مہم کے ذریعے عوامی سوچ میں تبدیلی لانا ہے تاکہ ہر بچے کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔





