لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

امریکی صدرکاآبنائےہرمزسےگزرنےوالےجہازوں پر 20 فیصدفیس کافیصلہ واپس لینےکااعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے ایک اہم ترین پالیسی فیصلے میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے والے تجارتی اور مال بردار جہازوں سے 20 فیصد فیس (حفاظتی معاوضہ) وصول کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے یہ اعلان واشنگٹن میں عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی (Iraqi PM Ali al-Zaidi) کا وائٹ ہاؤس آمد پر استقبال کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کھلی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے 20 فیصد فیس کے فیصلے کو تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا:

“مجھے سعودی عرب، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات (UAE) سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں کی فون کالز موصول ہوئیں۔ ان رہنماؤں نے تجویز دی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس ادا کرنے کے بجائے وہ امریکہ میں براہِ راست سرمایہ کاری کریں گے۔ اگر خلیجی ریاستیں امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہیں تو یہ ہمارے لیے زیادہ بہتر سودا ہے۔”

ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اصولی طور پر کسی کو بھی آبنائے ہرمز سے فیس وصول کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے اور ذاتی طور پر انہیں بھی اس گزرگاہ کے استعمال پر فیس وصول کرنے کا تصور پسند نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ دوبارہ جیت رہا ہے اور ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہو گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر عراق کو کبھی بھی مدد کی ضرورت ہوئی تو امریکہ ہمیشہ کی طرح اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔


ایک طرف جہاں تجارتی جہازوں کے لیے فیس کا فیصلہ واپس لیا گیا ہے، وہیں دوسری طرف صدر ٹرمپ نے ایران کی دوبارہ بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کرنے کا بھی باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے ماضی میں ایران کو معاہدہ کر کے ایک موقع دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر کھلی رہے گی اور امریکہ اس کے محافظ کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔ اس وقت انہوں نے بحری راستوں کے تحفظ کے نام پر تمام کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے اب خلیجی ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کی یقین دہانیوں کے بعد منسوخ کر دیا گیا ہے۔