لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ٹیلرسوئفٹ کی مبینہ شادی کا’کچرا‘منفردآرٹ ورک میں تبدیل،مداحوں نےہاتھوں ہاتھ خریدلیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: عالمی شہرت یافتہ امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ (Taylor Swift) اور این ایف ایل اسٹار ٹریوس کیلسی (Travis Kelce) کی مبینہ شادی اور اس سے جڑی افواہیں جہاں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں،

ایک امریکی فنکار نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک انوکھا کارنامہ انجام دے ڈالا ہے۔ نیویارک کے ایک آرٹسٹ نے اس مبینہ شادی کی تقریب کے باہر بکھرے کچرے کو آرٹ پیسز (Art Pieces) میں تبدیل کر دیا ہے، جنہیں حاصل کرنے کے لیے ٹیلر سوئفٹ کے مداحوں (Swifties) نے زبردست دلچسپی دکھائی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیویارک سے تعلق رکھنے والے نامور فنکار جسٹن گگنیک (Justin Gignac) نے اس مبینہ ہائی پروفائل تقریب کے بعد نیویارک کے مشہور میڈیسن اسکوائر گارڈن (Madison Square Garden) کے باہر کا رخ کیا۔

انہوں نے باقاعدہ طور پر ایک باوقار لباس (ٹکسیڈو) پہنا اور سڑکوں پر بکھرا کچرا چنا۔ بعد ازاں، انہوں نے اس کچرے کو شفاف اور ہوا بند پلاسٹک کیوبز (Airtight Plastic Cubes) میں سجا کر ایک منفرد آرٹ ورک کی شکل دی۔

آرٹسٹ کی جانب سے تیار کردہ ان یادگاری کیوبز میں سڑک سے اٹھائی گئی مختلف اشیاء شامل تھیں، جیسے:

سگریٹ کے ٹکڑے (Cigarette butts)
استعمال شدہ کاغذی کپ اور پلاسٹک کی اسٹراز (Paper cups and plastic straws)
کپڑے کے ٹکڑے اور پلاسٹک بیگز
کینڈی کے ریپرز اور یہاں تک کہ ایک بائیں کان کا ایئرپوڈ (AirPod)

جسٹن گگنیک نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر اس انوکھے پراجیکٹ کا تعارف کرواتے ہوئے لکھا:”پارٹی کے ختم ہونے کے بعد فرش پر کچرا پڑا تھا۔ یہ کچرا دراصل اس خوبصورت محبت کی کہانی کے کنارے سے جمع کیا گیا ہے۔ اس یادگار تقریب میں بغیر کسی باضابطہ دعوت نامے (Invitation) کے جتنا قریب پہنچا جا سکتا تھا، یہ آرٹ ورک اسی کی ایک جھلک ہے۔”


جسٹن گگنیک نے اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر دلچسپ واقعہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ انہوں نے کچرا چنتے وقت ٹکسیڈو پہن رکھا تھا، اس لیے وہاں موجود ٹیلر سوئفٹ کے کئی مداح انہیں شادی کا کوئی معزز مہمان سمجھ بیٹھے۔

تاہم، آرٹسٹ نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ تمام اشیاء تقریب کے ہال کے اندر سے نہیں بلکہ باہر سڑک سے جمع کی تھیں۔ ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کے مداحوں نے اس انوکھے آئیڈیا کو بے حد پسند کیا اور یہ آرٹ پیسز دیکھتے ہی دیکھتے فروخت ہو گئے۔