دی ہیگ / واشنگٹن (ویب ڈیسک): بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے عملے اور اداروں پر امریکی حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں (Sanctions) کے ابتدائی اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
تاہم، آئی سی سی کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان (Nazhat Shameem Khan) نے واضح کیا ہے کہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود عدالت کے تحقیقاتی کام اور انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے رواں ماہ کے آغاز میں آئی سی سی پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے “روگ کورٹ” (Rogue Court) قرار دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ “یا تو آئی سی سی اپنی کارروائیاں بند کرے، ورنہ ہم آئی سی سی کو ختم کر دیں گے”۔
امریکی پابندیوں پر مکمل عملدرآمد میں 6 ماہ کا وقت باقی ہونے کے باوجود، مختلف عالمی بینکوں نے خطرات سے بچنے کے لیے آئی سی سی کے عملے کو کریڈٹ کارڈز اور بینکنگ کی سہولیات دینے میں دشواریاں پیدا کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئی سی سی نے مائیکروسافٹ کے بجائے یورپی سافٹ ویئر متبادل اور یورپی انشورنس اداروں کے ساتھ شراکت داری شروع کر دی ہے۔
نزہت شمیم خان نے تصدیق کی کہ نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جاری ہونے والے گرفتاری کے وارنٹس کے بعد سے غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات پر غیر معمولی اور “نمایاں پیش رفت” ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق چیف پراسیکیوٹر کریم خان (Karim Khan) کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کے بعد ممبر ممالک کی ووٹنگ کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت کے ججوں نے تمام نئی درخواستوں کو راز میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ نے آئی سی سی اور اس کے عملے کے جذبے اور انسانی حقوق کے تحفظ پر انہیں ‘سخاروف پرائز’ (Sakharov Prize) سے نوازا ہے، جبکہ یورپی یونین ان امریکی پابندیوں کا راستہ روکنے کے لیے قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہی ہے۔
دی ہیگ / واشنگٹن (ویب ڈیسک): بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے عملے اور اداروں پر امریکی حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں (Sanctions) کے ابتدائی اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
تاہم، آئی سی سی کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان (Nazhat Shameem Khan) نے واضح کیا ہے کہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود عدالت کے تحقیقاتی کام اور انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے رواں ماہ کے آغاز میں آئی سی سی پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے “روگ کورٹ” (Rogue Court) قرار دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ “یا تو آئی سی سی اپنی کارروائیاں بند کرے، ورنہ ہم آئی سی سی کو ختم کر دیں گے”۔
امریکی پابندیوں پر مکمل عملدرآمد میں 6 ماہ کا وقت باقی ہونے کے باوجود، مختلف عالمی بینکوں نے خطرات سے بچنے کے لیے آئی سی سی کے عملے کو کریڈٹ کارڈز اور بینکنگ کی سہولیات دینے میں دشواریاں پیدا کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئی سی سی نے مائیکروسافٹ کے بجائے یورپی سافٹ ویئر متبادل اور یورپی انشورنس اداروں کے ساتھ شراکت داری شروع کر دی ہے۔
نزہت شمیم خان نے تصدیق کی کہ نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جاری ہونے والے گرفتاری کے وارنٹس کے بعد سے غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات پر غیر معمولی اور “نمایاں پیش رفت” ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق چیف پراسیکیوٹر کریم خان (Karim Khan) کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کے بعد ممبر ممالک کی ووٹنگ کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت کے ججوں نے تمام نئی درخواستوں کو راز میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ نے آئی سی سی اور اس کے عملے کے جذبے اور انسانی حقوق کے تحفظ پر انہیں ‘سخاروف پرائز’ (Sakharov Prize) سے نوازا ہے، جبکہ یورپی یونین ان امریکی پابندیوں کا راستہ روکنے کے لیے قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہی ہے۔





