لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

میئرظہران ممدانی اورنیویارک پولیس میں بڑھتی کشیدگی:پولیس کمشنرجیسیکاٹش کو ہٹانےکےمطالبات مسترد

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک سٹی میں بطور میئر اپنے پہلے سال کی زبردست کامیابیوں اور مقبولیت کے بعد، میئر ظہران ممدانی (Zohran Kwame Mamdani) کو اپنی حکومت کا سب سے بڑا اور پیچیدہ چیلنج نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) کے حوالے سے درپیش آ گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے باہر فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر پولیس کے تشدد اور حال ہی میں ماربل ہل (Marble Hill) میں امریکی اِمگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے 28 سالہ آسکر بیلگل (Oscar Belgal) پر فائرنگ کے بعد پیدا ہونے والے شدید عوامی ردِعمل نے میئر ممدانی اور ان کے سیاسی حامیوں کے درمیان دراڑ پیدا کر دی ہے۔

میئر ممدانی کی اپنی ہی سیاسی جماعت ڈیماکریٹک سوسیالسٹس آف امریکہ (DSA) اور کونسل ممبرز جولی وان اور کارمین ڈی لا روزا نے پولیس کی پرتشدد کارروائیوں پر سخت احتجاج کرتے ہوئے NYPD کی کمشنر جیسیکا ٹش (Jessica Tisch) کو فوری عہدے سے برطرف کرنے اور متنازع پولیس یونٹس اسٹریٹجک ریسپانس گروپ (SRG) اور کمیونٹی ریسپانس ٹیم (CRT) کو ختم کرنے کا مطالبات پیش کیا ہے۔ تاہم، میئر ممدانی نے کمشنر ٹش کو ہٹانے کا مطالبہ یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی خدمات کی تعریف کی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کی جانب سے سوال پر میئر ممدانی نے واضح کیا کہ جیسیکا ٹش اپنے عہدے پر برقرار رہیں گی اور انہوں نے پولیس میں کرپشن کے خاتمے اور نیویارک میں جرائم کی شرح کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ارب پتی خاندان سے تعلق رکھنے والی جیسیکا ٹش کو عہدے پر برقرار رکھنا نیویارک کی اشرافیہ، گورنر کیتھی ہوچل اور ہاؤس مائنارٹی لیڈر حکیم جیفریز کی حمایت حاصل رکھنے کا میئر ممدانی کا سیاسی فیصلہ ہے۔

الیکشن مہم کے دوران میئر ممدانی نے پرتشدد SRG یونٹ اور متنازع گینگ ڈیٹا بیس (Gang Database) کو مکمل ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد انتظامیہ نے ان کو ختم کرنے کے بجائے ان میں نرم اصلاحات (Reforms) متعارف کرانے کا اشارہ دیا ہے، جس پر سول رائٹس گروپس اور NYCLU نے سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

میئر ممدانی کا ایک سرگرم سیاسی کارکن سے 33 ہزار سے زائد افسران پر مشتمل ملک کے سب سے بڑے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے چیف ایگزیکٹو بننے کے اس سفر میں یہ پہلا سب سے بڑا سیاسی امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔