نیویارک (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی پالیسیوں کے خلاف اور آنے والے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) میں ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے ہفتے کے روز نیویارک سمیت امریکہ بھر میں ‘نو کنگز’ (No Kings) تحریک کے تحت ملک گیر مظاہروں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
منتظمین نے اس دن کو “آگاہی اور یکجہتی کا ملک گیر دن” (Nationwide Day of Action) قرار دیا ہے، جس کا مقصد شہریوں کو قبل از وقت ووٹنگ (Early Voting) کی ترغیب دینا ہے۔
صرف مین ہٹن میں دن بھر میں چھ بڑے مظاہرے شیڈول کیے گئے ہیں، جبکہ ویسٹ چیسٹر، پٹنم کاؤنٹیز، لانگ آئی لینڈ اور نیو جرسی میں بھی درجنوں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ نیویارک شہر کا سب سے بڑا مرکزی اجتماع ’ووٹ فیسٹ NYC‘ (Votefest NYC) واشنگٹن اسکوائر پارک میں منعقد کیا جا رہا ہے جس میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔
‘نو کنگز’ (No Kings) تحریک کا آغاز جون 2025ء میں صدر ٹرمپ کی سالگرہ کی پریڈ کے موقع پر ہوا تھا۔ تب سے اب تک اس تحریک میں 70 لاکھ سے زائد شہری اور ملک بھر میں 2,700 سے زائد پروگرام شامل ہو چکے ہیں۔ اس تحریک کا بنیادی فلسفہ مکمل طور پر پرامن اور عدم تشدد پر مبنی احتجاج پر قائم ہے۔
مظاہروں پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان لورین بس (Lauren Bis) نے کہا کہ “مظاہرین کا ووٹس اور انتخابات کے بارے میں بات کرنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اپنا نام تبدیل کر لینا چاہیے۔ اس نومبر کو امریکی عوام کے سامنے صدر ٹرمپ کی عام فہم پالیسیوں اور ڈیموکریٹس کی انتہا پسند اور کھلی سرحدوں کی پالیسیوں کے درمیان واضح انتخاب موجود ہے”۔
اگرچہ ان مظاہروں سے سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہونے کی توقع ہے، تاہم منتظمین نے پولیس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام اجتماعات پرامن رہیں گے اور کسی بھی تنازع کی صورت میں کشیدگی کو ختم کرنے (De-escalate) کی تمام تر تدابیر کی جائیں گی۔





