لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ایلون مسک کابڑا فیصلہ: 2024ء امریکی صدارتی انتخابات کے دوران 10 لاکھ ڈالر کے یومیہ انعامی سکیم کیس میں سمجھوتہ طے پا گیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

ٹیکنالوجی جائنٹ، ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک (Elon Musk) اور ان کی سیاسی کمیٹی ’امریکہ پیک‘ (America PAC) نے 2024ء کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل سوئنگ اسٹیٹس (Swing States) کے ووٹرز کے ساتھ کی جانے والی 10 لاکھ ڈالر کی روزانہ کی انعامی سکیم سے متعلق دائر دو کلاس ایکشن مقدمات میں تصفیہ (Settlement) کر لیا ہے۔

ٹیکسس کی وفاقی عدالت میں کیس کی سماعت کرنے والے جج کو جمعرات کے روز ایلون مسک، امریکہ پیک اور مدعیان کے وکلاء نے مطلع کیا کہ انہوں نے عدالتی منظوری سے مشروط تصفیہ کر لیا ہے۔ تاہم، عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں سمجھوتے کی مالی شرائط کو عام نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کیس سے منسلک وکلاء نے اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔

ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والے مدعیان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایلون مسک اور ان کی کمیٹی امریکہ پیک نے 7 اہم سوئنگ اسٹیٹس کے ووٹرز کو گمراہ کیا۔

ان سے امریکی آئین کی پہلی اور دوسری ترمیم کی حمایت کے پٹیشن پر دستخط کروانے کے لیے قرعہ اندازی کے ذریعے روزانہ 10 لاکھ ڈالر (1 Million Dollars) دینے کا سنسنی خیز وعدہ کیا گیا تھا۔

ایلون مسک نے 2024ء کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور کامیابی کی حمایت کے لیے امریکہ پیک کی بنیاد رکھی تھی۔ مدعیان کے مطابق یہ انعامی سکیم ووٹرز کے ساتھ ایک قسم کا دھوکہ اور گمراہ کن مہم تھی۔

جون 2026ء میں وفاقی جج نے ایلون مسک کو ان مقدمات میں پیش ہو کر گواہی دینے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد اب دونوں فریقین نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے تصفیے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور مسک انتظامیہ کے وکلاء نے ان تمام الزامات کی بارہا تردید کی تھی۔