لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

مڈٹرم انتخابات سےقبل صدرڈونلڈٹرمپ کےمتنازع بیانات اور سیاسی فیصلے:عوامی اعتماد اور پولنگ کےاہم اعدادوشمار

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکہ کے آئندہ مڈ ٹرم (مڈ ٹائم) انتخابات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات اور جارحانہ بیانات نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ووٹرز کو مالی ترغیب کی پیشکش، میڈیا اداروں کی وائٹ ہاؤس سے معطلی، اور 9/11 سے متعلق متنازع دعوؤں نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کو تبصروں کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔

حالیہ جائزوں کے مطابق ووٹرز میں صدر ٹرمپ کی قیادت کی صلاحیتوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ‘سی این این’ اور ‘فاکس نیوز’ کے سروے کے مطابق 67 فیصد امریکی شہریوں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ اہم فیصلے احتیاط سے نہیں کرتے، جبکہ 71 فیصد افراد کی رائے ہے کہ وہ “متوازن مزاج” کے حامل نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے ریپبلکنز کی اکثریت قائم رہنے پر ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر دینے کے وعدے کو مبصرین نے “کوئڈ پرو کو” (بدلے میں فائدہ) قرار دیا ہے۔ سروے کے مطابق 66 فیصد ووٹرز نے اس پیشکش کو غیر مناسب قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ نے اچانک سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS NOW) اور پولیٹیکو (Politico) کے صحافیوں کے پرائمری پاسز معطل کر کے ان کی وائٹ ہاؤس آمد پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔

9/11 کی سالگرہ کے موقع پر اپنے واقعاتی بیان اور 2024 میں بٹلر (پنسلوانیا) میں ہونے والے قاتلانہ حملے کو ڈیموکریٹس کی سازش قرار دینے کے بیان کو ایف بی آئی (FBI) اور خود ان کے چیف نے ثبوت نہ ہونے کی بناء پر خارج کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو پر سود کی شرح کم کرنے کے لیے تجارتی خسارے والے ممالک سے تجارت مکمل طور پر معطل کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

انتخابی مبصرین کے مطابق جہاں ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، وہاں صدر کے یہ بیانات غیر جانبدار ووٹرز کے فیصلوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔