لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکہ جانے کےخواہشمندوں کیلئےبڑاجھٹکا:ویزابانڈ پروگرام مستقل نافذ،20ہزارڈالرتک ضمانت دینا ہوگی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی حکومت نے اپنے امیگریشن قوانین کو مزید سخت کرتے ہوئے متنازع ’ویزا بانڈ پروگرام‘ (Visa Bond Program) کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس نئے قانون کے تحت بعض مخصوص ممالک کے شہریوں کو امریکہ کا ویزا حاصل کرنے کے لیے 20 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 55 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) تک کا ضمانتی بانڈ جمع کروانا پڑ سکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ نیا قانون کاروباری (B-1) اور سیاحتی (B-2) مقاصد کے لیے جاری کیے جانے والے ویزوں پر لاگو ہوگا۔ امریکی قونصلر حکام کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ ویزا جاری کرنے کی شرط کے طور پر درخواست گزار سے ضمانتی رقم کا تقاضا کریں۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ سال 2025 میں شروع کیے گئے پائلٹ پروگرام کے نتائج سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ویزا بانڈ کا نظام ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی قیام (Visa Overstay) کو روکنے اور قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے میں انتہائی مؤثر رہا ہے۔

پہلے سے جاری پائلٹ پروگرام میں 5 ہزار، 10 ہزار اور 15 ہزار ڈالر کی حدیں مقرر تھیں، تاہم اب 5 ہزار ڈالر کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

اب ویزا بانڈ کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ رقم میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 20 ہزار ڈالر تک بڑھا دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا قانون 3 اگست کو فیڈرل رجسٹر (Federal Register) میں باضابطہ اشاعت کے بعد فوراً نافذ العمل ہو جائے گا۔ اس پروگرام کی فہرست میں شامل 50 ممالک میں سے تقریباً 30 افریقی ممالک شامل ہیں جہاں سے ویزا اوور اسٹے کے کیسز زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اس سخت قدم کا بنیادی مقصد ان غیر ملکیوں پر قابو پانا ہے جو ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم رہتے ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ نے امیگریشن پالیسی کو بے حد سخت کر دیا ہے، جس کے تحت ویزا فیسوں میں اضافہ اور درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا پروفائلز کی شدید جانچ پڑتال جیسے اقدامات پہلے ہی شامل کیے جا چکے ہیں۔