لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

دہائیوں سےمقیم امیگرنٹس کوقانونی تحفظ دینے کابل کانگریس میں پیش

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن : امریکی ریاست نیواڈا سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کیتھرین کورٹیز ماسٹو (Catherine Cortez Masto) نے ملک کے غیر متوازن اور ناکارہ امیگریشن سسٹم میں بنیادی اصلاحات کے لیے ”فیرنیس فار امیگرنٹ فیملیز ایکٹ“ (Fairness for Immigrant Families Act) متعارف کروا دیا ہے۔ اس تاریخی بل کا بنیادی مقصد دہائیوں سے امریکہ میں مقیم محنت کش تارکینِ وطن خاندانوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

سینیٹر کورٹیز ماسٹو نے موجودہ امیگریشن قوانین پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نظام نے ان خاندانوں کو بالکل پیچھے چھوڑ دیا ہے جو سالہا سال سے یہاں رہ رہے ہیں، ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

سینیٹر کے مطابق امریکہ کا موجودہ امیگریشن نظام شدید خرابی کا شکار ہے جس نے سالہا سال سے لاکھوں لوگوں کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر رکھا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ناکارہ قوانین اور قانونی راستوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ محنت کش خاندان ٹرمپ انتظامیہ کی سخت اور بے رحمانہ پالیسیوں کا آسان ہدف بنتے رہے ہیں۔

سینیٹر ماسٹو نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ اب اس مسئلے کو مزید ٹالنے کے بجائے فوری طور پر عملی اور قانونی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ تارکینِ وطن خوف کے سایے سے نکل کر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔

بل پیش کرتے ہوئے سینیٹر کیتھرین ماسٹو نے کہا:”جو خاندان دہائیوں سے امریکہ میں رہ رہے ہیں اور یہاں محنت سے کام کر رہے ہیں، انہیں ایک ایسے نظام نے نظر انداز کر دیا ہے جس کی کوئی منطق سمجھ نہیں آتی۔ میں نے ’فیرنیس فار امیگرنٹ فیملیز ایکٹ‘ اسی لیے تیار کیا ہے تاکہ ان دیرینہ مسائل کو حل کیا جا سکے اور ان محنت کش خاندانوں کو ’امریکی خواب‘ (American Dream) پورا کرنے میں حقیقی مدد مل سکے۔“

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بل کی منظوری سے امریکہ میں دہائیوں سے مقیم غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ڈی پورٹیشن کے خوف سے نجات اور قانونی حیثیت حاصل کرنے کا سنہری موقع مل سکتا ہے۔