اوٹاوا (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں پھیلنے والے کینیڈا کے جنگلات کی آگ کے دھوئیں کا ذمہ دار کینیڈا کو ٹھہراتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فضائی آلودگی سے نمٹنے کے “بے حساب اخراجات” کینیڈیئن مصنوعات پر عائد موجودہ تجارتی ٹیرف (Tariffs) میں شامل کریں گے۔
کینیڈا کے سینکڑوں جنگلات میں لگی ہولناک آگ کا گاڑھا دھواں جمعرات اور جمعہ کے روز امریکا کی وسطی اور شمال مشرقی ریاستوں پر چھا گیا، جس کے باعث امریکی حکام کو شہریوں کے لیے گھروں کے اندر رہنے کی وارننگ جاری کرنی پڑی۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی (Mark Carney) کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھنے والے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس “مکمل طور پر ناقابل قبول” صورتحال پر کینیڈیئن رہنما سے رابطہ کر کے ان کا منصوبہ پوچھیں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا: “ہم کینیڈا کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ اپنے جنگلات کی درست طریقے سے دیکھ بھال نہیں کر رہا اور ریاستہائے متحدہ پر گندی، آلودہ اور غیر صحت بخش ہوا کے ذریعے بلاوجہ حملہ کیا جا رہا ہے۔ یہ کھلی غفلت ہے جو اب ہر سال کا معمول بنتی جا رہی ہے اور اس سے امریکا کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، اس آلودگی کی قیمت لازمی طور پر ان ٹیرف میں جوڑی جائے گی جو کینیڈا پہلے ہی ادا کر رہا ہے۔” واضح رہے کہ 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ہی ٹرمپ نے کینیڈا سے آنے والی متعدد اہم اشیاء پر ٹیرف عائد کر دیے تھے۔
دوسری جانب، کینیڈا کی ہنگامی صورتحال کے انتظام اور کمیونٹی لچک کی وزیر ایلینور اولسیوسکی (Eleanor Olszewski) نے ٹرمپ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں خشک اور گرم موسم کے پیش نظر حکومت نے 2020 سے اب تک جنگلات کے استحکام اور آگ کی روک تھام کے لیے 12 ارب کینیڈیئن ڈالر (8.56 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان آگ بجھانے کی طویل شراکت داری کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس وقت ہماری اولین ترجیح کینیڈیئن شہریوں کا تحفظ ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا بھی کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کی وجہ سے جنگلات میں خشک سالی اور آگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی کے دفتر نے فوری طور پر ٹرمپ کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکا ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتا ہے جو دنیا بھر میں قحط اور درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی اتوار کے روز نیو جرسی میں فیفا ورلڈ کپ فائنل کے موقع پر ملاقات متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس سال آگ کے زیادہ تر واقعات کینیڈا کے بڑے صوبے اونٹاریو کے دور دراز شمال مغربی علاقوں میں پیش آئے ہیں جہاں رسائی کا واحد ذریعہ ہوائی جہاز ہے۔ اب تک 650,000 ایکڑ سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے اور ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ شمال مغربی اونٹاریو میں ‘نامایگو سساگا گن فرسٹ نیشن’ نامی بستی مکمل طور پر جل گئی ہے اور وہاں “کچھ باقی نہیں بچا”۔ متاثرہ علاقوں کے پناہ گزینوں کو تھنڈر بے (Thunder Bay) شہر میں ٹھہرایا جا رہا ہے جو اب اپنی مکمل گنجائش تک پہنچ چکا ہے۔
اونٹاریو کے پریمیئر ڈوگ فورڈ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ صوبہ آگ پر قابو پانے کے لیے 11 نئے طیارے خریدے گا، انہوں نے مہم کو ناکافی قرار دینے والے امریکی سیاست دانوں کی تنقید کو بھی مسترد کر دیا۔ نیشنل انٹرایجنسی فائر سینٹر کے مطابق، امریکا خود بھی اس سال آگ کے شدید بحران سے گزر رہا ہے جہاں 2026 میں اب تک 3.7 ملین ایکڑ رقبہ جل چکا ہے۔





