لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

“No Surrender”: Iran’s President Slams US Messages Amid Rising Tensions

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

تہران(ویب ڈیسک): ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے امریکہ کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بامعنی مذاکرات کی بنیاد “وعدوں کی پاسداری” پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے واشنگٹن کی جانب سے موصول ہونے والے حالیہ پیغامات کو ایران کو جھکانے کی کوشش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

آج رات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اپنے ایک بیان میں صدر پزیشکیان نے کہا کہ ایران کی تاریخ امریکی حکومتی رویوں کے حوالے سے گہرے عدم اعتماد سے بھری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کی جانب سے ملنے والے متضاد اور غیر تعمیری اشارے ایک “کڑوا پیغام” دے رہے ہیں، جس کا مقصد ایران سے ہتھیار ڈلوانا (سرینڈر کروانا) ہے، لیکن ایرانی قوم طاقت کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔

صدر نے مزید کہا کہ اگر امریکہ بامعنی بات چیت کا خواہشمند ہے تو اسے پہلے اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔ ایران کی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔