لندن (اے ایف پی) – برطانیہ کی حکومت اگلے ماہ ایک اہم قانون سازی متعارف کرانے جا رہی ہے جس کا مقصد ملک کو یورپی یونین (EU) کے مزید قریب لانا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکہ اور برطانیہ کے روایتی “خصوصی تعلقات” (Special Relationship) میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں اور اپنے تاریخی اتحادی برطانیہ کے خلاف سخت بیانات نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ 27 ملکی یورپی بلاک کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ گہرا کریں۔ تھنک ٹینک ‘برٹش فارن پالیسی گروپ’ کی ڈائریکٹر ایوی ایسپینال کے مطابق، “حکومت پہلے ہی یورپی یونین کے قریب جانا چاہتی تھی، لیکن ایران کے حالات نے اس عمل کو تیز کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔
“نیا قانون: ‘ڈائنامک الائنمنٹ’ کیا ہے؟
اسٹارمر انتظامیہ ایک “EU Reset Bill” تیار کر رہی ہے۔ اس بل کے تحت برطانوی وزراء کو یہ اختیار ملے گا کہ وہ برطانیہ کے معیارات کو یورپی سنگل مارکیٹ کے قوانین کے مطابق ڈھال سکیں۔ اسے ماہرین کی زبان میں ‘ڈائنامک الائنمنٹ’ کہا جاتا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، شاہ چارلس سوئم 13 مئی کو اپنی تقریر میں اس قانون سازی کا باضابطہ اعلان کریں گے۔معاشی دباؤ اور ایران جنگ کے اثراتبین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے تنازع سے برطانیہ کی معیشت سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہے۔ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں کا ذمہ دار وزیر خزانہ ریچل ریوز نے ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں کو ٹھہرایا ہے۔
اسٹارمر نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا، جس پر ٹرمپ نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔تجارتی دھمکیاں: ٹرمپ نے اسکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔عوام کی بدلتی ہوئی رائےبریگزٹ (Brexit) کے دس سال بعد، اب حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر برطانوی شہری یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے پر پچھتاوا محسوس کر رہے ہیں۔
اسٹارمر اسی عوامی موڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خوراک، پودوں کی برآمدات اور بجلی کی مارکیٹ کے حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ نئے معاہدے کرنا چاہتے ہیں۔اگرچہ وزیر اعظم نے دوبارہ سنگل مارکیٹ میں شامل ہونے یا ‘فری موومنٹ’ کی بحالی کو مسترد کر دیا ہے، لیکن یہ نیا بل برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔





