کنشاسا/نیویارک (ویب ڈیسک): عوامی جمہوریہ کانگو (DRC) اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس کی ایک نئی اور نایاب قسم (Bundibugyo strain) کے پھیلاؤ نے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اقوامِ متحدہ (UN) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں، جہاں اب تک 139 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔
مشرقی کانگو کے صوبے ‘اتوری’ میں 15 مئی کو وباء کے باقاعدہ اعلان کے محض 72 گھنٹوں کے اندر، عالمی ادارہ صحت نے کینشاسا، ڈاکار اور نیروبی سے 11.5 ٹن طبی سامان فراہم کر دیا ہے۔ اس امداد میں ذاتی حفاظتی سامان (PPE)، میڈیکل کٹس، خیمے اور صفائی ستھرائی کا سامان شامل ہے تاکہ انفیکشن کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
فضائی پل (Air Bridge) کا قیام:
اقوامِ متحدہ کے امن مشن (MONUSCO) نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے نیروبی سے بنیا (Bunia) تک ایک “ایئر برج” قائم کیا ہے، جس کے ذریعے اب تک تقریباً 30 ٹن امدادی سامان منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ زمینی لاجسٹکس کو بہتر بنانے کے لیے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔
بیداری مہم اور احتیاطی تدابیر:
امن مشن کے اہلکار (بلیو ہیلمٹس) بنیا سے دور دراز علاقوں میں جا کر لوگوں کو ہاتھ دھونے، حفاظتی سامان کے درست استعمال اور جنگلی گوشت کے استعمال سے وابستہ خطرات کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔ اس مہم کا مقصد کمیونٹی کی تیاری کو بڑھانا اور عوام میں پھیلے خوف و ہراس کو کم کرنا ہے۔
بھوک اور صحت کا دہرا بحران:
عالمی غذائی پروگرام (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ یہ وباء ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب کانگو پہلے ہی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ملک بھر میں 26.5 ملین لوگ بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سے 10 ملین صرف مشرقی صوبوں میں مقیم ہیں۔ WFP نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے مجموعی طور پر 214 ملین ڈالرز اور خاص طور پر ایبولا رسپانس کے لیے 10 ملین ڈالرز کی اپیل کی ہے۔
بچوں کے لیے خدشات:
یونیسیف (UNICEF) نے ایبولا کے بچوں پر اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جنہیں والدین کی محرومی، نفسیاتی دباؤ اور سماجی بدنامی (Stigma) جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ یونیسیف کی جانب سے اب تک 50 ٹن امدادی سامان، بشمول صابن اور پانی صاف کرنے والی گولیاں، متاثرہ علاقوں میں پہنچائی جا چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ لہر ایبولا کی ایک نایاب قسم ہے جس کی فی الحال کوئی ویکسین یا دوا موجود نہیں، اس لیے احتیاط اور عالمی تعاون ہی اس سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔





