واشنگٹن: وفاقی اپیل کورٹ نے ہفتے کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں ایک بڑے نئے ‘بال روم’ کی تعمیر کا کام مزید ایک ہفتے تک جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ (East Wing) کی جگہ تعمیر ہونے والے اس پروجیکٹ پر قانونی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔
ڈی سی سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے 2-1 کے تناسب سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ 17 اپریل تک تعمیراتی کام جاری رہ سکتا ہے۔ عدالت نے اس کیس کو دوبارہ نچلی عدالت کے جج کے پاس بھیج دیا ہے تاکہ اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے کہ آیا یہ تعمیرات ‘قومی سلامتی’ کے لیے ضروری ہیں۔
ٹرمپ کے وکلاء کا موقف ہے کہ بال روم کے نیچے میزائل پروف اسٹیل کالمز، ڈرون پروف چھت اور بم شیلٹرز جیسے حساس فوجی تنصیبات تعمیر کی جا رہی ہیں، جنہیں ادھورا چھوڑنا صدر کی حفاظت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
گزشتہ ماہ ایک وفاقی جج رچرڈ لیون نے حکم دیا تھا کہ صدر ٹرمپ کانگریس کی اجازت کے بغیر وائٹ ہاؤس میں اس طرح کی بڑی تبدیلی نہیں کر سکتے۔ جج لیون نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ “صدر وائٹ ہاؤس کے امین (Steward) ہیں، مالک نہیں!”۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے میں موجود ‘سیکیورٹی استثنا’ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کام جاری رکھا ہوا ہے۔
مجوزہ بال روم تقریباً 89,000 اسکوائر فٹ پر محیط ہوگا، جو کہ اصل وائٹ ہاؤس کی عمارت (55,000 اسکوائر فٹ) سے بھی کہیں بڑا ہے۔
تاریخی ورثے کے تحفظ کے گروپس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سیکیورٹی بنکر کی آڑ میں ایک عالیشان بال روم بنا رہی ہے جس کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ صدر ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ یہ پروجیکٹ 2028 کے موسم گرما تک مکمل کر لیا جائے، جو ان کی صدارت کا آخری سال ہوگا۔





