نیویارک (ویب ڈیسک): امریکی ریاست نیویارک کی اسٹین آئلینڈ (Staten Island) کی ایک مقامی عدالت نے نیویارک سٹی کے میئر زوہران خلیل مامدانی (Zohran Kwame Mamdani) کی جانب سے امیر ترین طبقے اور دوسرے مکانات کے مالکان پر عائد کردہ ’پائڈ-اے-ٹیئر‘ ٹیکس (Pied-à-terre Tax) کے نفاذ پر عارضی روک لگا دی ہے۔
تاہم، میئر مامدانی کی انتظامیہ نے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی اس اسٹے آرڈر کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کر دی ہے۔
میئر آفس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سٹی لاء ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دائر کردہ اس فوری اپیل کے بعد جج کا عارضی اسٹے آرڈر اس وقت تک معطل ہو گیا ہے جب تک کہ اپیل پر حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا۔
یہ مقدمہ سابق فرسٹ ڈپٹی میئر رینڈی ماسٹرو (Randy Mastro) اور نیویارک سٹی کے تین مستقل رہائشیوں نے جمعے کے روز دائر کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ میئر مامدانی کی انتظامیہ نے ٹیکس کے نفاذ کے طریقہ کار میں شدید بے ضابطگیاں کی ہیں، جس کی وجہ سے شہر کے دائمی اور مستقل رہائشیوں کو بھی اس ٹیکس کا نوٹس بھیج دیا گیا۔
یہ ٹیکس بنیادی طور پر نیویارک کے غیر مقامی رہائشیوں (Non-residents) کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو شہر میں 5 ملین ڈالر (تقریباً 50 لاکھ ڈالر) یا اس سے زائد مالیت کے دوسرے مکانات (Second Homes) کے مالک ہیں۔
درخواست گزار ریچل اوبرائن نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا: “یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ انتظامیہ نے ہمارے اس گھر کو ثانوی رہائش گاہ قرار دے دیا جہاں ہم اپنے بچوں کے ساتھ مستقل طور پر مقیم ہیں۔ سیاسی سہولت اور جلدی میں کی گئی غلطیوں کی سزا عام خاندانوں کو نہیں ملنی چاہیے۔”
میئر مامدانی نے جولائی میں ان مالکان کو آگاہی خطوط بھیج کر اس اسکیم کا آغاز کیا تھا، اور خدشات کے پیش نظر اپیل جمع کروانے کی آخری تاریخ میں بھی توسیع کر دی تھی۔
وکیل رینڈی ماسٹرو پر تنقید کرتے ہوئے میئر کے ترجمان نے کہا: “عہدہ چھوڑنے کے بعد سے مسٹر رینڈی ماسٹرو سٹی انتظامیہ کے خلاف پانچ مقدمات دائر کر چکے ہیں۔ ہم عدالت کے آج کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے، لیکن ہم اس پائڈ-اے-ٹیئر ٹیکس اور سٹی کی اس صلاحیت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں کہ اسے انتہائی منصفانہ اور مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے گا۔”
نیویارک کی ریاستی اسمبلی سے منظور شدہ اس ٹیکس کا مقصد نیویارک کے ارب پتی طبقے سے اضافی محصول وصول کر کے عوامی فلاحی منصو بوں پر خرچ کرنا ہے۔





