نیویارک: نیویارک شہر کی انتظامیہ نے والدین کو معاشی و ذہنی سکون فراہم کرنے کے لیے اپنی نوعیت کے پہلے ‘پیرنٹس نائٹ آؤٹ’ (Parents’ Night Out) پروگرام کا کامیا ب انعقاد کیا۔
اس پروگرام کے تحت شہر کی تمام پانچوں بورو (Boroughs) کے تفریحی مراکزی میں تقریباً 300 بچوں کو مفت اور محفوظ ماحول فراہم کیا گیا تاکہ ان کے والدین بلا معاوضہ اور بغیر کسی فکر کے کچھ وقت اپنے لیے نکال سکیں۔
نیویارک کے میئر زوہران کوامے ممدانی (Zohran Kwame Mamdani) اور پارکس کمشنر ٹریشیا شیما مورا (Tricia Shimamura) نے اس پروگرام کی میزبانی کی، جس کے تحت شریک تمام بچوں کو ‘این وائی سی پارکس ریکریشن سینٹر’ کی مفت رکنیت بھی فراہم کی گئی۔
اس اقدام کے اہم پہلو اور شماریاتی حقائق درج ذیل ہیں۔
اس تفریحی رات کا انعقاد برونکس کے ‘کوامے تورے ریکریشن سینٹر’، برکلن کے ‘شرلی چزم ریکریشن سینٹر’، مین ہیٹن کے ‘ہائی برج ریکریشن سینٹر’، کوئنز کے ‘ال اورٹر ریکریشن سینٹر’ اور اسٹیٹن آئی لینڈ کے ‘گرین بیلٹ ریکریشن سینٹر’ میں کیا گیا۔
میئر زوہران ممدانی نے کہا کہ “والدین کے لیے چند گھنٹے کا ذاتی وقت کوئی تعیش نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ اس پروگرام کا مقصد نیویارک کو ایک سستا اور خاندانوں کے لیے آسان شہر بنانا ہے تاکہ والدین خریداری، شاپنگ یا محض سکون کے چند لمحے گزار سکیں اور بچوں کی فکر یا اخراجات سے آزاد رہیں۔”
والدین نے وقت کیسے گزارا؟ والدین پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق 29 فیصد نے یہ وقت اپنے ذاتی سکون (“me time”) کے لیے استعمال کیا، 22 فیصد نے ڈیٹ نائٹ منائی، 19 فیصد نے مقامی ریستورانوں میں کھانا کھایا، 16 فیصد نے شاپنگ کی جبکہ باقی نے دوستوں سے ملاقات یا ثقافتی اداروں کا دورہ کیا۔
محکمہ ثقافت کی شراکت داری سے والدین کو اس دوران ‘میوزیم آف دی سٹی آف نیویارک’ اور ‘امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری’ جیسے ثقافتی اداروں میں مفت یا کم قیمت پر جانے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔
والدین نے اس اقدام کو “زندگی بدل دینے والا” اور “سانس لینے کا موقع” قرار دیا، جبکہ بچوں نے روبوٹکس، بورڈ گیمز اور بریسلیٹ بنانے جیسے مشاغل سے لطف اندوز ہو کر اسے ایک یادگار رات قرار دیا۔





