لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کا آج رات اہم خطاب

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس سے اپنے سیاسی کیریئر کے ایک انتہائی نازک موڑ پر 15واں تاریخی خطاب کرنے جا رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر اسرائیل کو غزہ اور مغربی کنارے میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے شدید الزامات کا سامنا ہے، یہ خطاب ان کی ملکی سیاسی بقا کے لیے بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور سابق سفارتکاروں کے مطابق، نتن یاہو کا یہ خطاب عالمی برادری سے زیادہ اسرائیل کے داخلی عوام اور ووٹرز کو متاثر کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ رواں سال اسرائیل میں ہونے والے متوقع انتخابات کے پیشِ نظر نتن یاہو اور ان کی لیکوڈ (Likud) پارٹی کو عوامی مقبولیت میں کمی کا سامنا ہے۔ سابق اسرائیلی قونصل جنرل الون پنکاس کے مطابق، نتن یاہو اقوام متحدہ کے منبر کو اسرائیلی عوام کے سامنے اپنے آپ کو دنیا کے خلاف تنہا اور ڈٹ کر کھڑا ہونے والے ‘قومی ہیرو’ کے طور پر پیش کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

اسرائیل اور اقوام متحدہ کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی متعدد تنقیدی قراردادوں کو اسرائیل ‘ادارے کا تعصب’ قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے، جبکہ حال ہی میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو ‘پرسونا نان گراٹا’ (ناپسندیدہ شخصیت) قرار دے کر UNRWA پر بھی شدید پابندیاں عائد کی ہیں۔

اس کے علاوہ نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کے ساتھ حالیہ زبانی تنازع نے بھی اس دورے کو متنازع بنا دیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات اور مختصر ترین دورے کے پیشِ نظر نتن یاہو خطاب کے فوراً بعد واپس روانہ ہو جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نتن یاہو اپنے اس خطاب میں امریکی اتحاد، ایرانی خطرے، اور اپنے سخت موقف کو اجاگر کر کے انتخابی فائدے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔