لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

بھارت میں سیاسی بحران:’کاکروچ’یوتھ موومنٹ کا چیف الیکشن کمشنرکو48 گھنٹےکاالٹی میٹم، ملک گیراحتجاج کی دھمکی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نئی دہلی: بھارت میں ووٹنگ لسٹوں میں مبینہ ہیرا پھیری اور الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبریں سامنے آنے کے بعد سیاسی تنازع شدید تر ہو گیا ہے۔ بھارت کی نوجوانوں کی معروف تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (Cockroach Janta Party) کے رہنماؤں نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ اگر بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے 48 گھنٹے کے اندر اپنے عہدے سے استعفیٰ نہ دیا تو وہ ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے۔

یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب معروف بھارتی اخبار ‘دی انڈین ایکسپریس’ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران دو دیگر الیکشن کمشنرز (سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی) نے ووٹنگ لسٹوں کی اپ ڈیٹنگ اور فیصلے سازی کے طریقہ کار پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے کم از کم 14 بار شدید تحفظات اور اختلافات کا اظہار کیا۔

اس انکشاف کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کو فائدہ پہنچانے کے لیے لاکھوں ووٹرز کے نام لسٹوں سے ہٹائے گئے اور بغیر تصدیق کے نئے نام شامل کیے گئے۔

اہم ترین اپوزیشن جماعت ‘کانگریس’ نے بھی جمعہ کے روز ملک بھر میں تمام ریاستی الیکشن دفاتر کے باہر احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے، جس میں گیانیش کمار کی گرفتاری، ان کی برطرفی اور ان کے دور میں کیے گئے تمام فیصلوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے اندر مختلف آرائی ہونا جمہوریت کا حسن ہے اور اپوزیشن انتخابی شکستوں سے بچنے کے لیے آئینی اداروں پر بیجا الزام تراشی کر رہی ہے۔