میامی (ویب ڈیسک): امریکی انجینئرنگ کے غیر معمولی ذہین طالب علم نیتھن تھامس (Nathan Thomas) نے ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے محض 18 سال کی عمر میں دنیا کے کم عمر ترین کالج پروفیسر بننے کا عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز (Guinness World Records) کی باضابطہ تصدیق کے مطابق نیتھن تھامس کی عمر 18 سال اور 346 دن تھی جب انہوں نے امریکی ریاست فلوریڈا کے مشہور میامی ڈیڈ کالج (Miami Dade College) میں تدریسی فرائض سنبھالے۔
اس شاندار کامیابی کے ساتھ نیتھن تھامس نے تاریخ کے دو بڑے ریکارڈز توڑ دیے ہیں:
اس سے قبل یہ عالمی ریکارڈ کولن میکلورین (Colin Maclaurin) کے پاس تھا جو 1717ء میں 19 سال کی عمر میں پروفیسر بنے تھے۔
نیتھن نے عالیہ صبور (Alia Sabur) کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے، جو 2008ء میں 18 سال اور 362 دن کی عمر میں دنیا کی کم عمر ترین پروفیسر بنی تھیں۔
نیتھن تھامس کی بلا کی ذکاوت اور تعلیمی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے محض 10 سال کی عمر میں میامی ڈیڈ کالج میں ڈوئل انرولمنٹ کے ذریعے اپنی اعلیٰ تعلیم کا آغاز کر دیا تھا۔
بعد ازاں 14 سال کی عمر میں وہ فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی منتقل ہو گئے اور اپنی انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی۔ نیتھن کی یہ حیران کن کامیابی دنیا بھر کے نوجوانوں اور کم عمری میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ایک نئی اور روشن مثال بن چکی ہے۔





