لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

Major US-Iran Pact May Lead to Sanctions Relief and Increased Oil Exports

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان ایک انتہائی اہم اور بڑے مجوزہ معاشی و سفارتی معاہدے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں بڑی کمی اور عالمی معیشت پر مثبت اثرات کی توقع کی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایگزیوس’ کی رپورٹ کے مطابق، امریکا اور ایران ایک مشترکہ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کرنے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر 60 روزہ جنگ بندی کی جائے گی، جس میں باہمی رضامندی کے ساتھ مزید توسیع بھی ممکن ہوگی۔


مجوزہ معاہدے کی سب سے اہم شق عالمی بحری تجارت سے متعلق ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس کے بغیر بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ مزید برآں، سمندری تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے اور مال بردار جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو بحال کرنے کے لیے ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے بھی تیار ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس 60 روزہ مدت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ امریکی حکام کے مطابق، ایران اس بات کی قطعی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنے اور پہلے سے موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوگی۔

اس تمام عمل کے بدلے میں، امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد سخت پابندیاں نرم کرے گا اور ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں بھی رعایت دی جائے گی، تاکہ تہران عالمی مارکیٹ میں بغیر کسی رکاوٹ کے آزادانہ طور پر اپنا تیل فروخت کر سکے۔

اقتصادی ماہرین نے اس پیش رفت کو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑی خوشخبری قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندیاں ہٹنے سے جہاں ایک طرف بحران کا شکار ایرانی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا، وہاں دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں ایرانی تیل کی باقاعدہ سپلائی شروع ہونے سے خام تیل کی قیمتوں میں استحکام آنے کی قوی امید ہے۔