نیو جرسی / واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی ریاست نیو جرسی میں واقع امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے حراستی مرکز ’ڈیلانی ہال‘ (Delaney Hall) میں ایک 39 سالہ تارکِ وطن کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ امریکی رکنِ کانگریس روب مینینڈیز (Rob Menendez) نے پیر کی شام سوشل میڈیا پر اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
ہلاک ہونے والے تارکِ وطن کی شناخت ایڈون جووانی لوپیز کورنیجو (Edwin Jovanny Lopez Cornejo) کے نام سے ہوئی ہے، جو پچھلے 20 سالوں سے امریکہ میں مقیم تھا اور ایک بچے کا باپ تھا۔
رکنِ کانگریس روب مینینڈیز نے ڈیلانی ہال کے جائزہ دورے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہفتے کے دن ایڈون جووانی نے طبیعت کی خرابی کی شکایت کی، جس کے بعد وہ حراستی مرکز میں ہی بے ہوش ہو کر گر پڑا۔
وہاں موجود عملے نے سی پی آر (CPR) دیا اور ایمرجنسی میڈیکل سروسز (EMS) کو طلب کیا، جو اسے یونیوسٹی ہسپتال لے گئے جہاں بعد دوپہر اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
روب مینینڈیز نے آئی سی ای (ICE) پر الزام عائد کیا کہ ادارہ حراست کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کو عوام سے جان بوجھ کر چھپا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں بھی 41 سالہ ہیٹی کے شہری جین ولسن بروٹش کی اسی حراستی مرکز میں موت واقع ہوئی تھی۔
ڈیلانی ہال میں قیدیوں کے ساتھ برتے جانے والے سلوک اور ناقص طبی سہولیات پر طویل عرصے سے تنقید کی جا رہی ہے۔
مرکز کے اندر قیدیوں نے خراب کھانے کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی، جبکہ باہر مظاہرین اور آئی سی ای ایجنٹوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔
جون میں ایک سماعت کے دوران رکنِ کانگریس لا مونیکا میک آئیور (LaMonica McIver) نے انکشاف کیا تھا کہ قیدیوں کو خراب دودھ پینے یا بھوکا رہنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے اور خراب حالات کے باعث دو حاملہ خواتین کا اسقاطِ حمل (Miscarriage) بھی ہو چکا ہے۔





